مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی معاشی اور سماجی ہلچل کے لیے خطرناک حد تک غیر تیار ہے۔ ڈان نے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ گیٹس نے اپنے بلاگ پر تقریباً چھ ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون میں لکھا کہ مصنوعی ذہانت کا دور انسانی تاریخ کے انتہائی بے ہنگم ادوار میں شامل ہوسکتا ہے اور اس تبدیلی کو سنبھالنے کے لیے ابھی کوئی قابل اعتماد منصوبہ موجود نہیں۔

گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت یا تو غیر معمولی مساوات پیدا کرسکتی ہے یا ناانصافی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاست اور معاشی ترغیبات ٹیکنالوجی کی رفتار کم کرنے کے بجائے اسے تیز کر رہی ہیں۔ یہ ان کا تجزیہ ہے، روزگار یا معیشت کے حتمی نتائج کی سرکاری پیش گوئی نہیں۔

انہوں نے پہلا بڑا خطرہ مستقل ملازمتوں کے خاتمے کو قرار دیا۔ گیٹس کے بقول زرعی کام سے دفتری ملازمتوں کی تاریخی منتقلی کئی نسلوں میں ہوئی اور اس نے انسانی سوچ پر مبنی نئے کردار پیدا کیے، مگر مصنوعی ذہانت خود سوچ کے بعض کام بدل سکتی ہے۔ انہوں نے قانون، طب، کسٹمر سروس، سافٹ ویئر اور پیداوار کو اگلی دہائی میں متاثر ہونے والے شعبوں میں شمار کیا۔

ان کے مطابق ابتدائی اور درمیانی سطح کی ملازمتیں سب سے زیادہ دباؤ میں آسکتی ہیں، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے محدود ہوسکتے ہیں۔ روبوٹ سستے ہونے پر تعمیرات اور مہمان نوازی جیسے جسمانی کام بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ گیٹس نے یہ تجویز پیش کی کہ کچھ ملازمتیں انسانوں کے لیے مخصوص رکھی جاسکتی ہیں، خواہ مشین انہیں کم خرچ میں انجام دے سکے۔

دوسرا خطرہ بدنیت عناصر کو نئی صلاحیت ملنا ہے۔ گیٹس نے سائبر سکیورٹی ماہرین کی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے اسپتالوں، بینکوں، پانی اور بجلی کے نظام کو ممکنہ اہداف قرار دیا۔ تیسرا خطرہ بچوں اور انسانی تعلقات سے متعلق ہے۔ ان کے بقول ہر وقت موافق جواب دینے والے چیٹ بوٹس لت پیدا کرسکتے ہیں اور حقیقی انسانی میل جول سے حاصل ہونے والی سماجی تربیت کم کرسکتے ہیں۔

گیٹس نے اپنی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے منافع ان کی فاؤنڈیشن تک جائیں گے، جو اگلی دو دہائیوں میں باقی 200 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مضمون میں پیش کیے گئے خدشات بحث کے لیے ایک فریم ہیں؛ ان کی شدت، رفتار اور پالیسی حل مختلف ملکوں اور شعبوں میں الگ ہوسکتے ہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک