آسٹریلیا کی ریکارڈنگ انڈسٹری نے مکمل طور پر جنریٹو مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے گانوں کو ملک کے آفیشل میوزک چارٹس میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق آسٹریلین ریکارڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن، یعنی اے آر آئی اے، نے اعلان کیا کہ نئی اہلیت رواں ہفتے سے اس کے چارٹس پر لاگو ہوگی۔

فیصلے میں مکمل اے آئی تخلیق اور انسانی تخلیق میں اے آئی کے معاون استعمال کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے گانے جن میں اے آئی صرف ایک ٹول کے طور پر استعمال ہوئی ہو اور بیشتر تخلیقی کام انسانوں نے کیا ہو، چارٹس میں جگہ حاصل کرنے کے اہل رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ ریکارڈنگ جس کی بنیادی موسیقی، آواز یا تخلیقی ساخت مکمل طور پر جنریٹو نظام نے بنائی ہو، آفیشل درجہ بندی میں شامل نہیں ہوگی۔

یہ پابندی گانے کو سننے، آن لائن تقسیم کرنے یا نجی پلیٹ فارم پر شائع کرنے پر عمومی قانونی ممانعت نہیں ہے۔ اس کا دائرہ اے آر آئی اے کے آفیشل میوزک چارٹس کی اہلیت تک محدود ہے۔ چارٹس صنعت میں مقبولیت، فروخت اور اسٹریمنگ کی پیمائش کا نمایاں ذریعہ ہوتے ہیں، اس لیے اہلیت کے اصول فنکاروں، لیبلز اور تقسیم کاروں کے لیے عملی اہمیت رکھتے ہیں۔

اعلان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ انسانی تخلیقی حصہ کس معیار سے ناپا جائے گا۔ دستیاب رپورٹ میں تکنیکی جانچ، ثبوت جمع کرانے یا تنازع حل کرنے کے مکمل طریقۂ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے آئندہ رہنمائی سے واضح ہوگا کہ اے آر آئی اے کسی ریکارڈنگ کے مکمل اے آئی ہونے کا تعین خود کرے گی، ناشر کے بیان پر انحصار کرے گی یا تیسرے فریق کے مواد اور حقوق کی معلومات بھی دیکھے گی۔

موسیقی میں اے آئی کا استعمال کمپوزیشن، آواز کی صفائی، ماسٹرنگ، سازوں کی نقل اور مکمل گانا بنانے تک مختلف سطحوں پر ہوتا ہے۔ نئی پالیسی ان تمام استعمالات کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھتی، بلکہ انسانی قیادت والے کام کے لیے گنجائش برقرار رکھتی ہے۔ موجودہ قابلِ تصدیق نتیجہ یہی ہے کہ مکمل جنریٹو اے آئی گانے اے آر آئی اے چارٹس کے اہل نہیں، جبکہ انسانی اکثریتی تخلیق میں معاون اے آئی کے استعمال کی اجازت باقی ہے۔