اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے مہلک خودکار ہتھیاروں کے لیے فوری بین الاقوامی پابندیاں اور قواعد بنانے کی اپیل کی ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں نے کہا کہ دنیا اس اخلاقی حد کے خطرناک حد تک قریب پہنچ چکی ہے جہاں مشینیں انسانی مداخلت کے بغیر انسانوں کو ہدف منتخب کرکے طاقت استعمال کرسکیں گی۔ یہ انتباہ 2023 میں دی گئی مشترکہ اپیل کی تجدید ہے۔

مہلک خودکار ہتھیار عموماً ایسے نظام سمجھے جاتے ہیں جو نصب کیے جانے کے بعد خود ہدف منتخب کرسکتے اور طاقت استعمال کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اب تک انسانوں کو براہ راست نشانہ بنانے کے لیے مکمل خودکار نظام کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن جنگی میدانوں میں مختلف درجوں کی خودکاری پہلے سے موجود ہے۔ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں ڈرون اور الگورتھم پر مبنی نظاموں کے بڑھتے استعمال نے شہری نقصان، غلط شناخت اور جواب دہی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور آئی سی آر سی کی صدر مرجانا اسپولیارک نے ریاستوں سے سیاسی جرات دکھانے کی اپیل کی۔ ممالک کو نومبر میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ باقاعدہ عالمی معاہدے کے مذاکرات شروع کیے جائیں یا نہیں۔ ان کے مطابق تاخیر سے ایسے نظام پھیل سکتے ہیں جن پر بعد میں مؤثر کنٹرول مشکل ہوگا۔ یہ مطالبہ تمام خودکار دفاعی ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی نہیں، بلکہ سب سے خطرناک استعمال کے لیے واضح سرخ لکیروں سے متعلق ہے۔

آئی سی آر سی کے اسلحہ اور جنگی طرز عمل سے متعلق شعبے کے سربراہ لوراں گیزل نے کہا کہ تنظیم دو مخصوص اقسام پر پابندی چاہتی ہے: ایسے نظام جو اپنی نوعیت کے باعث ناقابل پیش گوئی ہوں، اور وہ جو انسانوں کو براہ راست ہدف بنانے کے لیے بنائے جائیں۔ ان کے مطابق یہ استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور شہریوں کے لیے شدید نقصان کا خطرہ رکھتے ہیں۔ دوسرے خودکار نظاموں کے لیے انسانی نگرانی، حدود اور جواب دہی کے قواعد زیر بحث رہ سکتے ہیں۔

اصل پالیسی سوال یہ ہے کہ ہدف منتخب کرنے اور مہلک فیصلہ کرنے میں بامعنی انسانی کنٹرول کیسے برقرار رکھا جائے۔ کسی غلط حملے کی صورت میں ذمہ داری پروگرامر، کمانڈر، ریاست یا نظام بنانے والی کمپنی میں کس پر ہوگی، یہ بھی واضح عالمی اصول چاہتا ہے۔ نومبر کا فیصلہ خود معاہدہ نہیں ہوگا، مگر مذاکرات شروع ہونے یا مزید تاخیر کی سمت متعین کرسکتا ہے۔ اس وقت خبر کا مصدقہ نکتہ مشترکہ تنبیہ اور قواعد کی اپیل ہے، نہ کہ کسی نئے عالمی قانون کا نفاذ۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک