واشنگٹن: امریکی بحریہ نے اے آئی ایم 424 ’مالس‘ کے نام سے طویل فاصلے کے فضائی میزائل پروگرام کے وجود کی تصدیق کی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ نظام ابھی جانچ اور ترقی کے مرحلے میں ہے۔ اس پروگرام کو بحری فضائیہ کے موجودہ اور مستقبل کے جنگی طیاروں کی دور سے ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ میزائل کو ایف اے 18، ایف 35 سی اور مستقبل کے ایف اے ایکس ایکس طیاروں کے ساتھ مربوط کرنے کی منصوبہ بندی زیر غور ہے۔ دی وار زون کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے تقریباً 1500 پاؤنڈ وزن اور 250 ناٹیکل میل، یعنی لگ بھگ 463 کلومیٹر سے زیادہ ممکنہ فاصلے کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ اعداد عوامی رپورٹنگ پر مبنی اندازے ہیں؛ امریکی بحریہ نے مکمل عملی صلاحیت، رفتار یا حتمی رینج کی جامع تکنیکی دستاویز جاری نہیں کی۔
طویل فاصلے کے ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے نظام کی کارکردگی صرف میزائل کی ظاہری رینج پر منحصر نہیں ہوتی۔ ہدف کی رفتار، طیارے کی بلندی، سینسر نیٹ ورک، رہنمائی، برقی مداخلت اور آزمائشی حالات بھی نتیجے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے ترقیاتی پروگرام میں بیان کیا گیا نظریاتی فاصلہ میدان میں ثابت شدہ عملی صلاحیت کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ خبر کسی جنگی استعمال یا کامیاب عملی تعیناتی کی تصدیق نہیں کرتی۔ دستیاب رپورٹ میں صرف پروگرام کے وجود، آزمائشی حیثیت اور ممکنہ پلیٹ فارموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پیداوار کی تعداد، فی یونٹ لاگت، تعیناتی کی تاریخ اور آزمائشی نتائج کے مکمل اعداد ابھی عوامی طور پر واضح نہیں۔
اگلی قابلِ جانچ پیش رفت باقاعدہ فلائٹ ٹیسٹ، خریداری کی سرکاری دستاویز یا طیارے کے ساتھ انضمام کی تصدیق ہوگی۔ اس وقت تک اے آئی ایم 424 کو ترقی پذیر نظام کے طور پر رپورٹ کرنا زیادہ درست ہے، مکمل طور پر فعال ہتھیار کے طور پر نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




