ٹیکنالوجی کمپنی ایپل رواں سال ستمبر میں اپنے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو متعارف کرانے کی تیاری کررہی ہے، جسے بعض رپورٹس میں آئی فون الٹرا کہا جارہا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ ڈیوائس کئی برس بعد آئی فون کے بنیادی ڈیزائن میں بڑی تبدیلی ہوسکتی ہے، تاہم نام، قیمت اور حتمی اجرا کی مکمل سرکاری تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی۔
ایکسپریس نے بلومبرگ کے ٹیکنالوجی صحافی مارک گورمین کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی ٹیسٹنگ میں شامل افراد نے فون کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔ ان کے مطابق ڈیوائس بند ہونے کی حالت میں جیب میں آسانی سے سما سکتی ہے اور فولڈ کرنے والا ہِنج مضبوط اور پائیدار محسوس ہوا۔ یہ آزمائشی تاثرات ہیں، بڑے پیمانے پر فروخت کے بعد کی حتمی کارکردگی نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایپل نے بڑے اندرونی فولڈنگ ڈسپلے کے لیے سافٹ ویئر میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ بڑی اسکرین پر ایپس اور آپریٹنگ سسٹم بہتر انداز میں دکھانے کے لیے آئی پیڈ سے ملتے جلتے ڈیزائن عناصر استعمال کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ اس کا مقصد کھلے فون کی زیادہ جگہ کو صرف بڑے موبائل انٹرفیس کے بجائے مؤثر طور پر استعمال کرنا ہوسکتا ہے۔
فولڈ ایبل اسکرین کے وسط میں بننے والی شکن یا کریز اس زمرے کے فونز کا معروف مسئلہ ہے اور رپورٹ کے مطابق ایپل کی پہلی ڈیوائس کے لیے بھی یہ ایک اہم چیلنج رہے گا۔ صارفین ممکنہ طور پر ہِنج کی مضبوطی کے ساتھ اس بات کو بھی دیکھیں گے کہ کھلی اسکرین پر کریز کتنی نمایاں رہتی ہے۔
اگر موجودہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو ایپل فولڈ ایبل اسمارٹ فون مارکیٹ میں سام سنگ اور دیگر موجودہ کمپنیوں کے مقابل آجائے گا۔ لیکن دستیاب خبر نہ حتمی قیمت بتاتی ہے، نہ فروخت شروع ہونے کی تاریخ، بیٹری، کیمروں یا مکمل تکنیکی خصوصیات کی تصدیق کرتی ہے۔ اسی لیے غیر اعلان شدہ جزئیات کو یقینی سمجھنا درست نہیں۔
یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست ٹیکنالوجی رپورٹ کی جانچ کے بعد اصل اردو میں تیار کی گئی ہے۔ آزمائشی رائے، رپورٹ شدہ ڈیزائن اور ممکنہ تعارف کو کمپنی کے باضابطہ حتمی اعلان سے الگ رکھا گیا ہے اور کسی غیر مصدقہ عدد یا خصوصیت کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




