فضائی سفر کے دوران لیتھیم بیٹریوں سے آگ لگنے کے بڑھتے واقعات کے بعد پاور بینکس، اضافی بیٹریوں اور ای سگریٹس سے متعلق حفاظتی ضوابط سخت کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی خبر کے مطابق نئے قواعد میں ایسی اشیا کو چیک اِن سامان میں رکھنے سے روکا گیا ہے تاکہ ممکنہ حرارت، دھواں یا آگ کی صورت میں کیبن عملہ بروقت مسئلے کو دیکھ اور سنبھال سکے۔
رپورٹ نے ہوا بازی کی عالمی تنظیم اِکاو سے منسوب کرتے ہوئے بتایا کہ پاور بینک، اضافی لیتھیم بیٹریاں اور ای سگریٹس چیک اِن بیگ میں رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ خبر کے مطابق 100 واٹ آور تک کے پاور بینکس کیبن میں لے جائے جا سکتے ہیں، مگر تعداد دو تک محدود ہوگی۔ 100 سے 160 واٹ آور والی بیٹری کے لیے متعلقہ ایئرلائن کی پیشگی اجازت درکار ہوگی، جبکہ 160 واٹ آور سے زیادہ گنجائش والی بیٹری پر پابندی بیان کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں دوران پرواز پاور بینک کے استعمال اور اسے چارج کرنے پر پابندی کا ذکر کیا گیا۔ متعدد ایئرلائنز کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے یہ پابندی نافذ کر دی ہے۔ خراب، پھولی ہوئی یا غیر معمولی حد تک گرم بیٹری ساتھ نہ لانے کی ہدایت بھی اہم ہے، کیونکہ ایسی ظاہری علامات اندرونی خرابی یا حرارتی عدم استحکام کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے ایکسپریس نے ذرائع کے ذریعے بتایا کہ پاور بینکس اور لیتھیم بیٹریوں کے حفاظتی ضوابط پر سختی شروع کی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں کسی ایک پاکستانی ایئرلائن کا مکمل مسافر نوٹس، نفاذ کی یکساں تاریخ یا خلاف ورزی کی سزا کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے مسافروں کو اپنی ایئرلائن اور روانگی کے ہوائی اڈے کی تازہ ہدایات الگ سے دیکھنی چاہئیں، خاص طور پر اگر بیٹری کی گنجائش 100 واٹ آور سے زیادہ ہو۔
واٹ آور کی مقدار عموماً بیٹری یا اس کے مستند پیکیج پر درج ہوتی ہے۔ اگر صرف وولٹیج اور ایمپیئر آور معلوم ہوں تو واٹ آور ان دونوں کی ضرب سے نکلتے ہیں، مگر مسافر کو خود اندازہ لگانے کے بجائے کارخانہ ساز کی واضح درجہ بندی یا ایئرلائن سے تصدیق کرنی چاہیے۔ پاور بینک کو دستی سامان میں قابل رسائی رکھنا، ٹرمینلز کو شارٹ سرکٹ سے بچانا اور خراب بیٹری استعمال نہ کرنا بنیادی احتیاط ہے۔
یہ خبر ہر ملک اور ہر ایئرلائن کے لیے ایک ہی قانونی حکم کا دعویٰ نہیں کرتی۔ اصل قابل عمل شرط مسافر کی ایئرلائن، روٹ اور مقامی ہوا بازی اتھارٹی کے نوٹس سے طے ہوگی۔ اردو ہیڈ لائنز رپورٹ شدہ حدود کو مسافروں کے لیے پیشگی تیاری کی اطلاع کے طور پر پیش کر رہا ہے، نہ کہ کسی غیر مذکور ادارے کی حتمی قانونی تشریح کے طور پر۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




