برطانیہ میں ایک چھوٹے بجلی گھر کو سائبر حملے کے بعد عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جبکہ وسیع قومی توانائی نظام متاثر نہیں ہوا۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے حملہ ایرانی حکومت سے منسلک ہیکرز سے منسوب کیا ہے۔ یہ نسبت ایک میڈیا رپورٹ ہے؛ دی نیشن کے متن میں برطانوی حکام کی جانب سے حملہ آوروں کی الگ عوامی شناخت یا حتمی قانونی نتیجہ بیان نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ گزشتہ ماہ پیش آیا اور متاثرہ چھوٹا پاور پلانٹ چار دن بند رہا۔ برطانیہ کے محکمہ توانائی سلامتی و نیٹ زیرو نے کہا کہ کسی مرحلے پر ملک کے بڑے توانائی نظام کو خطرہ نہیں تھا۔ محکمہ نے بجلی کمپنیوں سے رابطہ کرکے سائبر حملوں کے خطرے سے متعلق مشورے دیے، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر متاثرہ مقام کی شناخت سامنے نہیں لائی گئی۔
دی نیشن نے بتایا کہ نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر اور حکومت نے اہم انفراسٹرکچر سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ حکام کے مطابق حملہ کسی بڑے یا لازمی سروس فراہم کرنے والے پاور اسٹیشن پر نہیں ہوا بلکہ ایک چھوٹے پیمانے کے جنریٹر کو متاثر کیا۔ اس فرق کی اہمیت یہ ہے کہ مقامی آپریشن میں خلل کے باوجود قومی گرڈ کی دستیابی اور صارفین کی وسیع تر بجلی فراہمی محفوظ رہی۔
برطانیہ کے بجلی نظام میں چھوٹے گیس جنریٹر ضرورت کے وقت قلیل مدتی بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے یونٹس کا کردار بڑے بیس لوڈ پلانٹس سے مختلف ہوتا ہے، لیکن ان کی ڈیجیٹل سکیورٹی بھی مجموعی توانائی لچک کا حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ توانائی سائبر سکیورٹی کے ضوابط تازہ کر رہا ہے اور سال کے آخر کے لیے نئی توانائی لچک حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔
اس واقعے سے سامنے آنے والا تصدیق شدہ عملی نتیجہ ایک چھوٹے جنریٹر کی چار روزہ بندش اور کمپنیوں کو سرکاری انتباہ ہے۔ حملہ آوروں کی نسبت ٹیلی گراف کی رپورٹ تک محدود ہے، جبکہ مقام، تکنیکی طریقۂ حملہ، داخلے کا راستہ اور ممکنہ ڈیٹا نقصان عوامی متن میں موجود نہیں۔ اسی لیے خبر میں ایرانی تعلق کو ثابت شدہ عدالتی یا سرکاری نتیجے کے بجائے منسوب الزام کے طور پر رکھا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




