ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون ایکس کو اپنی پروڈکٹ سپورٹ پالیسی کے محدود ترین درجے ’آبسلیٹ‘ میں شامل کر دیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق ایپل کی سپورٹ دستاویزات میں اس ماڈل کا نیا درجہ ظاہر ہونے کے بعد کمپنی اور اس کے مجاز سروس فراہم کنندگان عام طور پر اس کے لیے باضابطہ ہارڈویئر مرمت یا متبادل پرزے فراہم نہیں کریں گے۔
اس تبدیلی کا عملی مطلب یہ ہے کہ آئی فون ایکس استعمال کرنے والے صارفین کو خراب اسکرین، کمزور بیٹری یا چارجنگ پورٹ جیسے مسائل کی صورت میں ایپل کے مجاز نیٹ ورک سے مرمت حاصل کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ تیسرے فریق کے مرمتی مراکز یا استعمال شدہ پرزوں کی دستیابی الگ معاملہ ہے اور ان کا معیار، قیمت یا حفاظت ایپل کی باضابطہ سپورٹ کے برابر فرض نہیں کی جا سکتی۔
ایپل عموماً کسی پروڈکٹ کی تقسیم اور فروخت بند ہونے کے سات سال سے زیادہ عرصے بعد اسے آبسلیٹ درجے میں رکھتا ہے، اگرچہ حتمی درجہ بندی کمپنی خود کرتی ہے۔ آئی فون ایکس نومبر 2017 میں متعارف ہوا تھا اور اس کی فروخت تقریباً دس ماہ بعد ستمبر 2018 میں بند کر دی گئی تھی۔ اسی زمانی فاصلے نے اب اسے پرانے معاونتی دائرے سے باہر پہنچا دیا ہے۔
آبسلیٹ درجہ ایپل کے ’ونٹیج‘ درجے سے مختلف اور زیادہ سخت ہے۔ ونٹیج آلات کے لیے بعض حالات میں مرمت ممکن رہتی ہے، بشرطیکہ مطلوبہ پرزہ دستیاب ہو، جبکہ آبسلیٹ آلات کے لیے مجاز ہارڈویئر سروس عملاً ختم ہو جاتی ہے۔ صارفین کے ذاتی ڈیٹا، بیک اپ اور اکاؤنٹ حفاظت کے تقاضے اس درجہ بندی کے باوجود برقرار رہتے ہیں۔
آئی فون ایکس ایپل کے ڈیزائن میں ایک اہم موڑ تھا کیونکہ اس نے فیس آئی ڈی، او ایل ای ڈی ڈسپلے اور کناروں تک پھیلی اسکرین متعارف کرائی، جبکہ روایتی ہوم بٹن اور ٹچ آئی ڈی ہٹا دیے گئے۔ ہارڈویئر سپورٹ کا خاتمہ اس تاریخی اہمیت کو تبدیل نہیں کرتا، مگر فعال صارفین کے لیے مرمت، بیٹری کی حالت اور مستقبل کی ڈیوائس منتقلی کا منصوبہ زیادہ ضروری بنا دیتا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




