بیجنگ: چین میں ٹیسلا سمیت متعدد گاڑی ساز کمپنیوں کی تقریباً 43 لاکھ گاڑیوں کے لیے بڑی ری کال مہم کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کی بنیادی وجہ شدید حادثے کے بعد بجلی کا نظام متاثر ہونے کی صورت میں گاڑی کے مکینیکل ایمرجنسی ڈور ریلیز کو تلاش یا استعمال کرنے میں ممکنہ دشواری ہے، جس سے مسافروں کے پھنسنے یا امدادی کارکنوں کے لیے دروازہ کھولنے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹیسلا کی تقریباً 29 لاکھ 80 ہزار درآمد شدہ اور چین میں تیار کردہ گاڑیاں اس ری کال میں شامل ہیں۔ متاثرہ ماڈلز میں ماڈل 3، ماڈل وائے، ماڈل ایکس اور ماڈل ایس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تعداد تقریباً 30 لاکھ بنتی ہے اور اسے چین میں ٹیسلا کی اب تک کی سب سے بڑی ری کال قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق مسئلہ عام ڈرائیونگ کے دوران دروازے کھلنے کا نہیں بلکہ شدید حادثے کے بعد برقی نظام ناکام ہونے کی ممکنہ صورت حال سے متعلق ہے۔ اس وقت مکینیکل ایمرجنسی ریلیز تک فوری رسائی اہم ہو جاتی ہے۔ ٹیسلا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ اور ایمرجنسی ہینڈلز کی نشاندہی کے لیے وارننگ لیبلز کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رپورٹ میں تمام گاڑیوں کو ورکشاپ میں جسمانی مرمت کے لیے لانے کی شرط بیان نہیں کی گئی۔
ری کال مہم میں ٹیسلا کے علاوہ شیاؤمی، لیپ موٹر، ایکسپینگ اور جیلی سمیت دوسرے چینی کار ساز اداروں کی گاڑیاں بھی شامل بتائی گئی ہیں۔ مجموعی 43 لاکھ کا عدد ان تمام کمپنیوں کی متاثرہ گاڑیوں کا تخمینہ ہے، صرف ٹیسلا کی گاڑیوں کا نہیں۔ مختلف کمپنیوں اور ماڈلز کے لیے اصلاحی طریقہ ایک جیسا ہونا ضروری نہیں، اس لیے مالکان کو متعلقہ کمپنی یا چینی ریگولیٹر کی مخصوص ہدایات دیکھنی ہوں گی۔
چین نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ 2027 سے چھپے ہوئے یا فلش ڈور ہینڈلز پر پابندی عائد کی جائے گی۔ موجودہ ری کال اسی وسیع حفاظتی تشویش کے تناظر میں سامنے آئی ہے، مگر رپورٹ میں کسی مخصوص حادثے کو تمام متاثرہ ماڈلز کی خرابی کا حتمی سبب قرار نہیں دیا گیا۔ خبر کا ثابت شدہ نکتہ ریگولیٹر کا ری کال اعلان، متاثرہ حجم اور ایمرجنسی دروازہ کھولنے سے متعلق بیان کردہ خطرہ ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




