پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے شہریوں، خصوصاً خواتین، کو واٹس ایپ پر کورئیر نمائندہ بن کر کیے جانے والے ایک فراڈ سے خبردار کیا ہے۔ دی نیشن کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق دھوکے باز فون یا واٹس ایپ کال پر پارسل آنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ترسیل یا پتے کی تصدیق کے نام پر ایک مرتبہ استعمال ہونے والا کوڈ مانگتے ہیں۔

یہ کوڈ دراصل واٹس ایپ اکاؤنٹ کو نئے آلے پر رجسٹر کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ صارف کے کوڈ بتانے کے بعد فراڈیا اکاؤنٹ اپنے قبضے میں لے کر اصل صارف کے خاندان، دوستوں، ساتھیوں اور دوسرے رابطوں کو پیغام بھیج سکتا ہے۔ پھر کسی ہنگامی صورت حال کا بہانہ بنا کر فوری رقم منتقل کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔

پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ یا او ٹی پی کسی شخص کو نہیں دینا چاہیے، چاہے وہ خود کو کورئیر کمپنی، بینک، موبائل کمپنی یا سرکاری ادارے کا نمائندہ بتائے۔ کسی پارسل سے متعلق کال کی تصدیق متعلقہ کمپنی کے سرکاری نمبر یا ویب سائٹ سے الگ رابطہ کرکے کی جانی چاہیے، نہ کہ کال کرنے والے کے دیے گئے نمبر سے۔

اکاؤنٹ پر قبضہ ہونے سے مالی نقصان کے ساتھ شناخت کے غلط استعمال کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے، کیونکہ متاثرہ شخص کے رابطے پیغام کو قابلِ اعتماد سمجھ سکتے ہیں۔ اس لیے کسی جاننے والے کے اکاؤنٹ سے اچانک رقم کی درخواست آئے تو رقم بھیجنے سے پہلے دوسرے ذریعے، مثلاً براہِ راست فون کال، سے شناخت کی تصدیق ضروری ہے۔

یہ انتباہ کسی ایک کورئیر کمپنی کے نظام میں خرابی کی اطلاع نہیں، بلکہ جعل سازوں کے سماجی فریب کے طریقے سے متعلق ہے۔ صارفین کو تصدیقی کوڈ خفیہ رکھنے، مشکوک کال ختم کرنے، سرکاری ذریعے سے حقیقت جانچنے اور متاثر ہونے کی صورت میں متعلقہ پلیٹ فارم و سائبر کرائم حکام کو اطلاع دینے کی ضرورت ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک