لاہور: ترک نژاد امریکی محقق ڈاکٹر خسرو بختیار نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی ترکی کے دروپینار مقام پر زمین کے نیچے ایک کشتی نما ڈھانچے کے آثار ملے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق محقق نے یہ نتیجہ اپنے تیار کردہ زمین کے اندر دیکھنے والے ریڈار سے کیے گئے معائنے کی بنیاد پر پیش کیا۔ رپورٹ میں اس امکان کو حضرت نوحؑ کی کشتی سے جوڑا گیا ہے، مگر اس نسبت کو کسی مکمل کھدائی، ہم مرتبہ سائنسی تحقیق یا آزاد ماہرین کی حتمی تصدیق حاصل نہیں ہوئی۔

دروپینار مشرقی ترکی میں تندروک پہاڑ کے قریب ایک ایسی ارضی ساخت ہے جس کی ظاہری شکل بڑی کشتی سے مشابہ بتائی جاتی ہے۔ چیک شدہ رپورٹ کے مطابق اس ساخت کی لمبائی تقریباً 515 فٹ ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ماہرینِ ارضیات اسے قدرتی زمینی بناوٹ قرار دیتے آئے ہیں۔ اس لیے نئی ریڈار ریڈنگ کو پہلے سے قائم سائنسی اختلاف کا قطعی فیصلہ سمجھنے کے بجائے ایک محقق کا تازہ دعویٰ سمجھنا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر بختیار کا آلہ برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے زیرِ زمین موجود ساختوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ محقق کا کہنا ہے کہ حاصل ہونے والے اشاروں میں ایک کشتی جیسا ڈھانچا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں ریڈار کے خام اعداد و شمار، مکمل نقشے، پیمائش کے معیار، نمونوں کی عمر یا کسی آزاد تحقیقی ٹیم کے تقابلی نتائج شامل نہیں کیے گئے۔ ان معلومات کے بغیر اس ڈھانچے کی نوعیت، انسانی تعمیر ہونے یا کسی خاص تاریخی دور سے تعلق کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر بختیار اب اپنی ٹیم کے ساتھ مقام پر کھدائی کرنا چاہتے ہیں تاکہ زمین کے نیچے موجود ساخت کو براہِ راست دیکھا اور جانچا جا سکے۔ کھدائی کی اجازت، اس کا باقاعدہ شیڈول یا کسی ترک سائنسی و آثارِ قدیمہ کے ادارے کی شرکت کے بارے میں چیک شدہ رپورٹ نے تفصیل فراہم نہیں کی۔ اس مرحلے پر خبر کا قابلِ تصدیق نکتہ صرف ریڈار معائنے اور اس سے اخذ کیے گئے دعوے تک محدود ہے۔

رپورٹ میں قرآن پاک کے حوالے سے کشتی کے ٹھہرنے کے مقام کے لیے الجودی کا نام بھی بیان کیا گیا اور بتایا گیا کہ مقامی آبادی تندروک کی ایک چوٹی کو الجودی کہتی ہے۔ مذہبی روایت، مقامی نام اور ارضیاتی شناخت الگ نوعیت کے شواہد ہیں؛ ان میں تعلق ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ آثارِ قدیمہ، تاریخ بندی اور آزاد سائنسی جائزہ درکار ہوگا۔ کھدائی، تجربہ گاہی نتائج یا تحقیقی مقالہ سامنے آنے پر ہی دعوے کی مضبوطی کے بارے میں مزید واضح رپورٹنگ ممکن ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک