واشنگٹن: ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد شائع ہونے والے نئے ویب صفحات میں تقریباً 35 فیصد پر مصنوعی ذہانت سے تحریر یا ایڈیٹنگ کی نمایاں علامات پائی گئیں۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ نے یہ نتائج پیو ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار سے منسوب کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق محققین نے گزشتہ پانچ برسوں میں جمع کیے گئے تقریباً پانچ لاکھ انگریزی زبان کے ویب صفحات پر مشتمل آرکائیو کا جائزہ لیا۔ متن کو اوپن پروگرام نامی ایک ٹول سے جانچا گیا جو تحریر میں اے آئی کے ممکنہ استعمال کا اندازہ لگاتا ہے۔ پورے نمونے میں قریب 10 فیصد صفحات پر نمایاں آثار ملے، مگر صرف چیٹ جی پی ٹی کے بعد کے صفحات دیکھنے پر شرح 35 فیصد تک بتائی گئی۔
یہ عدد اس بات کا خودکار ثبوت نہیں کہ ہر نشان زد صفحہ مکمل طور پر مشین نے لکھا یا اس میں انسانی مصنف موجود نہیں تھا۔ شناختی ٹول امکانات کا اندازہ لگاتا ہے اور رپورٹ نے مکمل انسانی تدوین، جزوی معاونت اور مکمل خودکار تحریر کے الگ تناسب فراہم نہیں کیے۔ نتیجہ انگریزی ویب صفحات کے مخصوص آرکائیو سے متعلق ہے؛ اسے تمام زبانوں، تمام ویب سائٹس یا پورے انٹرنیٹ کے قطعی 35 فیصد کے برابر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈیڈ انٹرنیٹ تھیوری پر بحث بڑھ رہی ہے، جس میں مواد بنانے اور استعمال کرنے میں خودکار نظاموں اور بوٹس کے بڑھتے کردار پر تشویش ظاہر کی جاتی ہے۔ مطالعے کا مشاہدہ اس بحث کو اعداد فراہم کرتا ہے، مگر یہ خود اس نظریے کے تمام دعووں کی توثیق نہیں۔ ویب مواد کی افادیت، درستگی اور اصل ماخذ جانچنے کے لیے انسانی ادارت اور شفاف disclosure اب بھی اہم ہیں۔
اگلی تحقیقی ضرورت مختلف زبانوں، موضوعات اور ویب سائٹ اقسام کے الگ نمونوں، شناختی ٹول کی غلط مثبت و منفی شرح اور انسانی و مشینی مشترکہ تحریر کی واضح تعریف سے متعلق ہوگی۔ موجودہ خبر کا محفوظ نتیجہ یہ ہے کہ زیرمطالعہ بعد کے انگریزی صفحات میں اے آئی کی نمایاں شمولیت کے آثار تیزی سے بڑھے، نہ کہ انسان کا کردار ختم ہو گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




