ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی حکومت 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کرنے پر پابندی کے لیے پارلیمنٹ میں نیا بل پیش کرے گی۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے یہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ پابندی ابھی فوری طور پر نافذ نہیں ہوئی؛ پہلے مجوزہ قانون کو پارلیمانی عمل سے گزرنا ہوگا۔

مجوزہ بل کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں پر صارفین کی عمر جانچنے کے مناسب اقدامات کی ذمہ داری ڈالی جائے گی۔ رپورٹ میں موجود اکاؤنٹ کی معلومات، چہرے کی شناخت اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات جیسے ممکنہ طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ طریقے حتمی طور پر کس شکل میں لازم ہوں گے، ڈیٹا کیسے محفوظ کیا جائے گا اور غلط عمر شناخت ہونے پر اپیل کا کیا راستہ ہوگا، اس کی مکمل قانونی تفصیل خبر میں موجود نہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قانون کی پابندی نہ کرنے والے پلیٹ فارمز کے لیے ان کی عالمی آمدنی کے دس فیصد تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ مجوزہ حد ہے، نافذ شدہ جرمانہ نہیں۔ کسی مخصوص کمپنی پر اس وقت جرمانہ عائد ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا گیا، کیونکہ بل ابھی پیش کیے جانے کے مرحلے میں ہے اور اس کی حتمی منظوری باقی ہے۔

وزیراعظم لکسن نے اقدام کی وجہ نوجوانوں کو نقصان دہ مواد، عادت پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی اور ذہنی دباؤ سے بچانا بتائی۔ ان کے مطابق یہ اثرات ذہنی صحت، نیند، تعلیم اور خاندانی زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ حکومت کی بیان کردہ پالیسی دلیل ہے؛ دستیاب رپورٹ میں الگ طبی تحقیق کے نتائج یا ہر عمر گروہ پر یکساں اثرات کے اعداد شامل نہیں، اس لیے صحت سے متعلق دعوے انہی کے بیان کی نسبت سے نقل کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پابندی کا مکمل نفاذ آسان نہیں ہوگا، مگر مسئلے کی سنگینی کے باعث قانون سازی ضروری سمجھی گئی ہے۔ آئندہ بحث میں عمر کی تصدیق، رازداری، والدین کی ذمہ داری، پلیٹ فارمز کی تکنیکی اہلیت اور قانون کے دائرۂ کار جیسے سوالات اہم ہوں گے۔ فی الحال قابلِ تصدیق پیش رفت حکومتی اعلان، بل پیش کرنے کا ارادہ، عمر کی حد اور مجوزہ جرمانے تک محدود ہے؛ اسے نافذ شدہ پابندی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک