کراچی: پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے بانی اور چیئرمین ابراہیم امین نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال پاکستانی فری لانسرز کی آمدن 2.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پاکستان کو دنیا کی چوتھی ابھرتی ہوئی فری لانسنگ مارکیٹ قرار دیا۔
ابراہیم امین کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 1.76 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئی، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں 17 ملین ڈالر کی برآمدی آمدن حاصل ہوئی۔ یہ اعداد اور 2.5 ارب ڈالر کا تخمینہ ایسوسی ایشن کے چیئرمین سے منسوب ہیں؛ دستیاب رپورٹ میں کسی سرکاری شماریاتی ادارے کی الگ تصدیق یا مکمل حسابی طریقہ نہیں دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 29 اگست کو گورنر ہاؤس کراچی میں فری لانسرز کی کامیابی کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ بھی تقریب میں موجود ہوں گی۔ یہ اعلان مستقبل کی تقریب سے متعلق ہے، اس لیے مقام، وقت یا شرکا میں کسی تبدیلی کے لیے سرکاری اطلاع دیکھنا ضروری ہوگا۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے یوٹیوب پر فعال تعلیمی پلیٹ فارمز پر عائد پانچ فیصد ٹیکس ختم کرنے یا اسے ایک فیصد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ تفریحی اور تعلیمی پلیٹ فارمز کو ایک ہی زمرے میں رکھنا درست نہیں۔ یہ ایک مطالبہ ہے؛ خبر میں ٹیکس کی شرح تبدیل ہونے یا حکومت کی جانب سے منظوری کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
ابراہیم امین نے پاکستانی فری لانسرز کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ بتائی اور کہا کہ معاون حکومتی پالیسیوں سے اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے آئی ٹی خدمات کی آمدن بھی بڑھ سکتی ہے۔ فری لانس آمدن کے اعداد میں بینکنگ چینلز، پلیٹ فارم ادائیگیوں اور مختلف برآمدی تعریفوں کا فرق اثر انداز ہو سکتا ہے، اس لیے مختلف اداروں کے اعداد ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔
فری لانسنگ نوجوانوں اور ہنرمند کارکنوں کے لیے عالمی منڈی تک رسائی کا اہم راستہ ہے، لیکن 2.5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل ہونا ادائیگی کے ذرائع، انٹرنیٹ دستیابی، مہارتوں، عالمی طلب اور پالیسی ماحول سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوگا۔ موجودہ بیان ایک توقع ہے، مکمل شدہ مالی سال کا حتمی نتیجہ نہیں۔
یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ آمدن، فری لانسرز کی تعداد، عالمی درجہ بندی اور ٹیکس سے متعلق تمام دعوے ابراہیم امین سے منسوب رکھے گئے ہیں اور کسی تخمینے کو حتمی سرکاری نتیجہ نہیں بنایا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




