رحیم یار خان: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے خواتین کے نجی ڈیٹا اور مبینہ جعلی قابل اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ کے مقدمے میں ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق ایجنسی نے گرفتار شخص کی شناخت محمد سلمان کے نام سے بتائی ہے، تاہم الزامات ابھی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے مرحلے میں ہیں اور کسی عدالت نے جرم ثابت نہیں کیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم نے بیرون ملک ملازمت کے دوران غیر ملکی خواتین کی نجی معلومات اور تصاویر تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ پاکستان واپسی کے بعد اس مواد کو استعمال کرتے ہوئے جعلی قابل اعتراض تصاویر تیار کی گئیں اور متاثرہ خواتین سے رقم کا مطالبہ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رقم نہ دینے کی صورت میں مبینہ مواد کو سوشل میڈیا پر پھیلانے یا خواتین کے اہل خانہ تک پہنچانے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ یہ تمام نکات تفتیشی ادارے کا مؤقف ہیں؛ ان کی عدالتی جانچ، ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق اور ملزم کے دفاع کا عمل ابھی باقی ہے۔
چھاپے کے دوران ایک موبائل فون اور دیگر متعلقہ مواد قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایجنسی نے مقدمہ درج کرکے ڈیجیٹل فرانزک معائنہ شروع کردیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آلات میں موجود ڈیٹا، اکاؤنٹس اور مبینہ رابطوں کا شکایت سے کیا تعلق ہے۔ مزید ممکنہ متاثرین کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔
سائبر بلیک میلنگ کے معاملات میں نجی تصاویر یا ذاتی معلومات کو آگے پھیلانا متاثرین کو دوبارہ نقصان پہنچا سکتا ہے، اس لیے خبر میں کسی مبینہ مواد کی تفصیل یا نقل شامل نہیں کی گئی۔ متاثرہ افراد کے نام بھی رپورٹ میں ظاہر نہیں کیے گئے۔ مقدمے کا حتمی نتیجہ عدالت اور مکمل تفتیش کے بعد ہی متعین ہوگا؛ گرفتاری بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




