پشاور: سرکاری میڈیا اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں میر علی کے علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور آپریشن کے دوران مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ریڈیو پاکستان کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے بعد اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ سرکاری ذرائع نے مارے جانے والے افراد کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک دہشت گرد قرار دیا، جبکہ ریاستی بیانیے میں اس گروہ سے وابستہ عناصر کے لیے فتنہ الخوارج کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ آزاد ذرائع سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت یا آپریشن کی تمام تفصیلات کی الگ سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق میر علی بازار کے قریب راشن لے جانے والے ایک ٹرک کو روکنے کی کوشش بھی ناکام بنائی گئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فورسز نے میر علی اور گرد و نواح میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر عسکریت پسند موجود تھے۔ کارروائی کے بعد علاقے میں مزید کلیئرنس اور نگرانی کی سرگرمیاں جاری رہنے کی اطلاعات بھی دی گئیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ بیانات میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی آپریشن جاری رکھے گی۔ ان بیانات میں کسی نئی پالیسی یا آپریشن کے دائرہ کار میں تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران عسکریت پسند حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک روز قبل بھی سیکیورٹی ذرائع نے خیبر اور چاغی میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ ان واقعات نے سرحدی اور قبائلی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

میر علی شمالی وزیرستان کا ایک اہم قصبہ ہے جہاں ماضی میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی اور انٹیلی جنس کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ تازہ آپریشن سے متعلق دستیاب معلومات بنیادی طور پر سرکاری ذرائع پر مبنی ہیں، اس لیے جانی نقصانات، برآمدگی اور مبینہ وابستگیوں سے متعلق دعوے اسی نسبت سے رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک سیکیورٹی خطرات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ دوسری جانب خطے میں پائیدار امن کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ مقامی انتظام، سرحدی نگرانی اور سیاسی و معاشی استحکام کو بھی اہم عناصر سمجھا جاتا ہے۔