کراچی: میر رضا علی قتل کیس کے حالات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے قائم ایک رکنی عدالتی کمیشن نے پہلے پوسٹ مارٹم سے وابستہ میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ کی مزید بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے تازہ سماعت کے بعد جاری حکم میں درخواست پر غور کیا اور قرار دیا کہ اس مرحلے پر مزید بیان ریکارڈ کرنے کی ضرورت نہیں۔
دستیاب عدالتی حکم کے مطابق ڈاکٹر اسامہ شیخ نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ کمیشن کے سامنے پہلے دیے گئے بیان کے علاوہ مزید معلومات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ کمیشن نے اپنے مشاہدے میں اس بات کا حوالہ دیا کہ متعلقہ افسر سوشل میڈیا پر بھی اس مقدمے کے بارے میں گفتگو کر چکے تھے۔ تاہم کمیشن نے ان کی نئی درخواست قبول نہیں کی۔ یہ حکم کسی شخص کو مجرم قرار دینے یا غفلت ثابت کرنے کے مترادف نہیں بلکہ جاری انکوائری کے طریقہ کار سے متعلق عدالتی فیصلہ ہے۔
میر رضا علی، جو 25 سالہ کاروباری شخص تھے، کی لاش جولائی کے آخر میں کراچی کے گلستان جوہر کے علاقے میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ معاملے کے بعد ابتدائی طبی معائنے، پوسٹ مارٹم، تفتیشی اقدامات اور متعلقہ اداروں کے کردار کے بارے میں سوالات اٹھے، جس کے بعد عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ کمیشن کا مقصد واقعے کے حالات، طبی اور تفتیشی کارروائیوں اور ممکنہ انتظامی یا پیشہ ورانہ کوتاہیوں کا جائزہ لینا ہے۔
کیس میں مختلف افراد کے بیانات اور ریکارڈ زیر غور آ چکے ہیں، لیکن حتمی نتیجہ کمیشن کی مکمل کارروائی اور دستیاب شواہد کے جائزے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اس مرحلے پر کسی اہلکار یا فرد کے خلاف غفلت، جرم یا ذمہ داری کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح پولیس کی الگ فوجداری تفتیش اور عدالتی کمیشن کی انکوائری کے دائرہ کار میں بھی فرق ہو سکتا ہے۔
تازہ حکم کی اہمیت یہ ہے کہ کمیشن نے اپنے ریکارڈ کو بڑھانے سے متعلق درخواست پر واضح فیصلہ دے دیا ہے اور انکوائری اپنی موجودہ شہادتوں اور آئندہ مقررہ کارروائی کے مطابق آگے بڑھے گی۔ مقدمے میں حتمی ذمہ داری یا ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق کوئی نتیجہ صرف متعلقہ عدالت یا کمیشن کے آئندہ احکامات اور تفتیشی نتائج کی بنیاد پر ہی اخذ کیا جا سکے گا۔
