اسلام آباد: حکومت نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان ریلویز کے کراچی تا پشاور مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے کے پہلے مرحلے کی تخمینی لاگت 2.1 ارب ڈالر ہے، جبکہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے مالی وسائل کے انتظام پر نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو دوسرے مرحلے کی فنڈنگ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے گی۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان کے ایوان بالا کو فراہم کیے گئے سرکاری جواب میں بتایا گیا کہ پاکستان ریلویز کے تقریباً 67 فیصد ٹریک کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے اور گزشتہ تین برسوں میں 300 حادثات ریکارڈ کیے گئے۔ ایم ایل ون کی مجموعی لمبائی تقریباً 1,872 کلومیٹر ہے اور یہ کراچی سے پشاور تک ملک کے اہم ریلوے کوریڈور کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہے۔
منصوبے کو مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت چین کے علاوہ دیگر ذرائع، مقامی بینکوں کے ذریعے ریلوے اراضی کی بنیاد پر فنانسنگ اور کثیرالجہتی قرض دہندگان سے وسائل حاصل کرنے کے امکانات دیکھ رہی ہے۔ دوسرے مرحلے کے لیے ریلوے کی زمین کو مالیاتی ڈھانچے میں استعمال کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کا حجم تقریباً 470 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک مجوزہ تعمیراتی ماڈل میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن منصوبے کا متعلقہ حصہ تین برس میں مکمل کرے گی۔ اس ماڈل کے تحت لاگت کا زیادہ سے زیادہ 80 فیصد مقامی بینکوں سے قرض کی صورت میں حاصل کرنے اور کم از کم 20 فیصد وفاقی حکومت کی جانب سے viability gap funding کے طور پر فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ یہ انتظام ابھی مالی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور اس کے حتمی نفاذ کا انحصار متعلقہ منظوریوں اور فنانسنگ بندوبست پر ہوگا۔
ایم ایل ون پاکستان کے بنیادی ریلوے ڈھانچے کی بحالی کے لیے اہم منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں ٹریک کی موجودہ حالت اور حادثات کی تعداد نے اس منصوبے کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا ہے، تاہم لاگت اور قرض کے انتظام سے متعلق فیصلے اس کی رفتار کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
