کراچی: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 11.32 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مجموعی انڈیکس میں 0.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی اور بعض غذائی اشیا کی قیمتیں سالانہ مہنگائی کو بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مشترکہ ایس پی آئی 373.51 پوائنٹس پر رہا، جو ایک ہفتہ قبل 374.84 تھا، تاہم گزشتہ سال اسی مدت کے 335.53 پوائنٹس سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ہفتہ وار بنیاد پر بعض اہم اشیا میں کمی نے مجموعی انڈیکس کو نیچے لانے میں مدد دی۔ بجلی کے سہ ماہی چارجز میں 3.92 فیصد، مرغی میں 2.95 فیصد، انڈوں میں 2.81 فیصد، گندم کے آٹے میں 0.83 فیصد اور ایل پی جی میں 0.73 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔

اس کے باوجود سالانہ تقابل میں توانائی کی متعدد اشیا اب بھی خاصی مہنگی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 107 فیصد، بجلی 52 فیصد، پٹرول 44 فیصد اور گندم کا آٹا تقریباً 35 فیصد مہنگا بتایا گیا۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہفتے کی معمولی کمی کے باوجود گھریلو بجٹ پر توانائی اور بنیادی خوراک کی قیمتوں کا دباؤ برقرار ہے۔

حساس قیمت اشاریہ محدود مگر روزمرہ استعمال کی اہم اشیا کی قیمتوں میں تیز رفتار تبدیلیوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ہفتہ وار کمی کو عمومی مہنگائی میں مستقل کمی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، خصوصاً جب سالانہ شرح دو ہندسوں میں ہو اور توانائی کی عالمی قیمتیں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور رسد کے خدشات سے متاثر ہوں۔

آئندہ ہفتوں میں ایندھن، ایل پی جی، بجلی اور غذائی اجناس کی قیمتوں کی سمت قلیل مدتی مہنگائی کے رجحان کے لیے اہم ہوگی۔ عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں اور مقامی سپلائی کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلی کی صورت میں ایس پی آئی میں بھی اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔