اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ میں ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں 124 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہوا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں دیے گئے عبوری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر تک مجموعی وصولیاں تقریباً 4.06 ٹریلین روپے رہیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت سے تقریباً 220 ارب روپے زیادہ ہیں لیکن مقررہ رفتار سے کم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں ایف بی آر نے تقریباً 974 ارب روپے جمع کیے، جبکہ ماہانہ ہدف 1.132 ٹریلین روپے تھا، یوں صرف اکتوبر کا فرق تقریباً 158 ارب روپے بنتا ہے۔ حکام کو توقع تھی کہ 31 اکتوبر کو انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ مزید ادائیگیاں موصول ہونے سے حتمی اعداد میں کچھ بہتری آئے گی، اس لیے رپورٹ شدہ چار ماہ کے اعداد کو عبوری حیثیت حاصل ہے۔

موجودہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 15.263 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 17.4 فیصد اضافہ درکار ہے۔ ابتدائی چار ماہ میں مجموعی نمو تقریباً چھ فیصد بتائی گئی، جو مطلوبہ سالانہ رفتار سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی داخلی تشخیص میں پورے سال کی ممکنہ وصولیاں 14.3 سے 14.6 ٹریلین روپے کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم یہ کوئی حتمی سرکاری نتیجہ نہیں بلکہ موجودہ رفتار پر مبنی اندازہ ہے۔

محصولات کی اقسام میں انکم ٹیکس وصولیاں تقریباً 1.85 ٹریلین روپے رہیں اور ہدف سے 165 ارب روپے کم بتائی گئیں۔ اس کے برعکس سیلز ٹیکس وصولیاں تقریباً 1.515 ٹریلین روپے رہیں، جو مقررہ ہدف سے 67 ارب روپے زیادہ تھیں۔ وفاقی ایکسائز ڈیوٹی تقریباً 277 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی تقریباً 424 ارب روپے رپورٹ ہوئی۔

ٹیکس وصولیوں کی رفتار حکومت کے مالی خسارے، ترقیاتی اخراجات اور بین الاقوامی مالیاتی پروگرام کے اہداف کے لیے اہم ہے۔ تاہم چونکہ 31 اکتوبر کی اضافی وصولیاں اور بعد کی مفاہمت ابھی عبوری اعداد میں مکمل طور پر شامل نہیں تھیں، اس لیے حتمی چار ماہ کے سرکاری اعداد جاری ہونے پر شارٹ فال کی مقدار میں تبدیلی ممکن ہے۔