اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سے متعلق مجوزہ پالیسی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب درآمدی رسد میں رکاوٹوں اور مارکیٹ میں بلند قیمتوں کے باعث ایل پی جی کے شعبے میں دباؤ بڑھا ہوا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر پٹرولیم کریں گے اور اسے ایک ماہ کے اندر مجوزہ اصلاحات، سلنڈر کے معیارات اور مقامی ایل پی جی ماڈل پر جامع سفارشات وزیراعظم کو پیش کرنا ہوں گی۔
مجوزہ فریم ورک میں سرکاری اداروں کو ایل پی جی درآمد کرنے اور ماہانہ قیمت کے تعین میں مرکزی کردار دینے کی تجویز شامل ہے۔ دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی کمپنیاں، پارکو اور پاکستان ایل این جی جیسے اداروں کے ذریعے درآمدی مساوی قیمت کا نظام متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس نظام میں سعودی آرامکو کے معاہداتی نرخ، حقیقی پریمیم، فریٹ، انشورنس، دیگر اخراجات اور درآمدی ٹیکس کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ اوگرا کی جانب سے مقامی اور درآمدی ایل پی جی کی ماہانہ قیمتوں کے نوٹیفکیشن کا موجودہ کردار ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ یہ تجاویز ابھی حتمی پالیسی یا نافذ شدہ فیصلہ نہیں بلکہ جائزے کے مرحلے میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ پالیسی پر ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز سمیت بعض اسٹیک ہولڈرز نے اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ پالیسی کو ان سے مناسب مشاورت کے بغیر حتمی شکل دی جا رہی تھی اور سرکاری اداروں کے پاس بڑے پیمانے پر ایل پی جی درآمد کا محدود تجربہ ہے۔ بعض صنعت نمائندوں نے مقامی ایل پی جی پر مجوزہ مالی بوجھ کے باعث صارفین کے لیے قیمت بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ یہ صنعت کے فریقوں کے اعتراضات ہیں اور کمیٹی کو انہی سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔
مجوزہ اصلاحات میں مارکیٹنگ اور درآمدی کمپنیوں کا کم از کم مارجن 35 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھا کر 50 ہزار روپے فی ٹن کرنے، مقامی اور درآمدی قیمت کے فرق کے لیے ایک مخصوص فنڈ بنانے اور اس رقم سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اسکور کارڈ کی بنیاد پر کمزور صارفین کو ہدفی سبسڈی دینے کا تصور بھی شامل ہے۔ فنڈ کے آڈٹ کی ذمہ داری آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دائرے میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویز میں مقامی پیداوار کا 10 فیصد حصہ سرکاری مارکیٹرز کے لیے مختص کرنے کی تجویز بھی ہے تاکہ گلگت بلتستان، شمالی اور دیگر دور دراز علاقوں کو سلنڈرز اور موجودہ ایئر مکس پلانٹس کے ذریعے فراہمی کی جا سکے۔ باقی 90 فیصد ایل پی جی کو پہلے سے اہل قرار دیے گئے بوٹلرز کو شفاف ماہانہ نیلامی کے ذریعے دینے کی تجویز ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے 16 اکتوبر کو ایک سرکاری وضاحت میں کہا تھا کہ مقامی ایل پی جی کی شفاف اور مسابقتی تقسیم حکومت کی ترجیح ہے اور مقصد مارکیٹ میں مساوی مواقع، بہتر رسد اور صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے۔ نئی کمیٹی اب انہی پالیسی نکات، صنعت کے اعتراضات اور موجودہ رسدی صورتحال کو دیکھ کر حتمی سفارشات مرتب کرے گی۔
