کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں چار مسلسل سیشنز کی تیزی جمعہ کو ختم ہو گئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 784.19 پوائنٹس، یعنی 0.47 فیصد، کمی کے ساتھ 166,409 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی خام تیل کی بلند قیمتیں، خطے میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال اور گزشتہ چند سیشنز میں نمایاں بحالی کے بعد منافع خوری نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے آخری کاروباری سیشن میں مارکیٹ زیادہ تر منفی زون میں رہی۔ حالیہ چار سیشنز میں انڈیکس تقریباً 4,800 پوائنٹس بحال ہوا تھا، جس کے بعد کئی سرمایہ کاروں نے منافع محفوظ کرنے کو ترجیح دی۔ کاروبار کے دوران انڈیکس 167,339 پوائنٹس کی بلند سطح تک گیا، جبکہ نچلی سطح 166,535 پوائنٹس ریکارڈ ہوئی، اور اختتام دن کی کم سطح کے قریب ہوا۔
مارکیٹ پر سب سے زیادہ منفی اثر یونائیٹڈ بینک، لکی سیمنٹ، حبیب بینک، فاطمہ فرٹیلائزر اور اٹک ریفائنری کے حصص نے ڈالا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس سے 359 پوائنٹس کم کیے۔ دوسری طرف اینگرو فرٹیلائزر، پاکستان آئل فیلڈز، میزان بینک، اینگرو ہولڈنگز اور او جی ڈی سی نے کچھ سہارا دیا اور مجموعی طور پر 177 پوائنٹس کا مثبت حصہ ڈالا۔
تجزیہ کاروں نے عالمی توانائی منڈی کو سرمایہ کاروں کی تشویش کا اہم سبب قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل 116 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں سے متعلق واقعات اور سعودی ریفائنریوں پر حوثی حملوں کی اطلاعات نے رسد میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھائے۔ پاکستان چونکہ توانائی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی تیل قیمتوں میں تیز اضافہ بیرونی کھاتے، درآمدی بل اور مہنگائی کی توقعات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
مقامی سطح پر بھی توانائی قیمتوں کا دباؤ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا۔ فنانس ڈویژن نے اکتوبر کی مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ دیا تھا، جبکہ ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے اوپر پہنچنے کی صورتحال نے کاروباری لاگت کے خدشات کو تقویت دی۔ یہ عوامل مارکیٹ کی سمت کے بارے میں محتاط رویے کا حصہ بنے۔
کاروباری سرگرمی کے اعدادوشمار ملے جلے رہے۔ حصص کا مجموعی حجم تقریباً 1.05 فیصد بڑھ کر 825.46 ملین شیئرز ہوا، لیکن کاروباری مالیت 26.69 فیصد کم ہو کر 23.12 ارب روپے رہ گئی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ حصص کا لین دین ہونے کے باوجود مجموعی نقد قدر میں کمی آئی۔
جمعہ کی گراوٹ کو ایک روزہ مارکیٹ نتیجے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس سے آئندہ سیشنز کی سمت یقینی طور پر اخذ نہیں کی جا سکتی۔ سرمایہ کاروں کی توجہ اب عالمی تیل منڈی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ملکی مہنگائی اور کمپنیوں کے مالی نتائج پر رہے گی، جو آنے والے کاروباری دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
