مسلسل اپ ڈیٹس

ایل پی جی پالیسی کا جائزہ — درآمد، قیمتوں اور مقامی تقسیم

وزیراعظم شہباز شریف نے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سے متعلق مجوزہ پالیسی اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیرِ پٹرولیم کی سربراہی میں آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی قائم کی ہے اور اسے ایک ماہ کے اندر حتمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جائزہ میں سرکاری اداروں کے ذریعے درآمدات، ماہانہ بنیاد پر قیمتوں کا تعین (امپورٹ پیریٹی/معاہداتی نرخ، فریٹ، انشورنس وغیرہ کی بنیاد)، اوگرا کے ماہانہ نوٹیفکیشن کے کردار میں تبدیلی اور مقامی پیداوار کی تقسیم شامل ہیں۔ مجوزہ نکات میں مارکیٹنگ و درآمدی کمپنیوں کے مارجن کو 35 ہزار سے 50 ہزار روپے فی ٹن تک بڑھانے، مقامی اور درآمدی قیمت کے فرق کے لیے فنڈ بنانے اور اس سے ہدفی سبسڈی (بینظیر انکم سپورٹ کے سکور کارڈ کے تحت) دینے کی تجویز، اور مقامی پیداوار کا 10 فیصد حصہ سرکاری مارکیٹرز کو مختص کر کے باقی 90 فیصد اہل بوٹلرز کو شفاف ماہانہ نیلامی کے ذریعے دینے کا تصور شامل ہے۔ صنعت و مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز نے بعض تجاویز پر مشاورت نہ کیے جانے اور سرکاری اداروں کے محدود تجربے کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے ہیں؛ پٹرولیم ڈویژن نے 16 اکتوبر کو کہا تھا کہ یہ تجاویز حتمی پالیسی نہیں بلکہ جائزے کے مرحلے میں ہیں۔ نئی کمیٹی انہی نکات، اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات اور موجودہ رسدی صورتحال کو مدنظر رکھ کر سفارشات تیار کرے گی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے