اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو ختم کرنے کے اپنے فیصلے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 9 دسمبر 2025 کو ادارہ ختم کرنے کی منظوری دی تھی اور وفاقی کابینہ نے 23 دسمبر کو اس فیصلے کی توثیق کی۔

حکومت کے مطابق یہ اقدام زرعی شعبے میں اصلاحات اور گندم کی خریداری، ذخیرہ، نقل و حمل اور مارکیٹنگ میں نجی شعبے کی زیادہ شرکت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 کے تحت مارکیٹ پر مبنی نظام کی طرف منتقلی شروع کی گئی اور اسے قومی گندم پالیسی 2026-30 کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

وزیر نے تسلیم کیا کہ پاسکو نے طویل عرصے تک اسٹریٹجک گندم ذخائر، خسارے والے علاقوں، مسلح افواج اور ہنگامی ضروریات کے لیے اہم عوامی خدمات انجام دیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ آڈٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق ادارے نے 2016-17 سے 2025-26 تک دس میں سے آٹھ مالی سالوں میں منافع رپورٹ کیا، تاہم 2023-24 اور 2024-25 میں نقصان ہوا۔ 2024-25 کا نقصان 20.48 ارب روپے بتایا گیا جبکہ 2025-26 کے لیے 6.02 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع درج ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پاسکو کی بندش کا مطلب غذائی تحفظ کے انتظامات کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ دستیاب ذخائر صوبائی ضروریات کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر کمی کو درآمدات سے پورا کیا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی اسٹریٹجک ذخائر کی نگرانی، گندم کی آزاد بین الصوبائی نقل و حرکت اور نجی شعبے کی خرید و ذخیرہ کاری میں شرکت بھی پالیسی کا حصہ بتائی گئی ہے۔

حکومت ایک متبادل ادارہ جاتی انتظام تیار کرنے کی بات کر رہی ہے، لیکن اس کی حتمی ساخت، مالیاتی طریقہ کار اور نفاذ کا شیڈول ابھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس لیے منتقلی کے دوران گندم ذخائر، قیمتوں اور دستیابی کی مسلسل نگرانی اہم ہوگی، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاسکو کی روایتی ذمہ داریاں نئے نظام کو منتقل کی جائیں گی۔