اسلام آباد: مہمند ڈیم منصوبے کی تخمینی لاگت 2018 میں منظور شدہ 310 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 666 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 356 ارب روپے یا تقریباً 115 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ منصوبے سے متعلق دستاویزات کے مطابق روپے کی قدر میں کمی، تعمیراتی تاخیر اور دیگر لاگتی عوامل نے نظرثانی شدہ تخمینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
مہمند ڈیم کو ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل نے اپریل 2018 میں 310 ارب روپے کی لاگت پر منظور کیا تھا۔ تعمیر کی ذمہ داری چین کی چائنا گیزوبا گروپ کمپنی اور پاکستان کی ڈیسکون انجینئرنگ کے مشترکہ منصوبے کے پاس ہے۔ اصل شیڈول میں منصوبے کی تکمیل ستمبر 2025 کے لیے رکھی گئی تھی، تاہم دستیاب دستاویزات میں موجودہ تعمیراتی پیش رفت تقریباً 57 فیصد بتائی گئی ہے۔
واپڈا نے نظرثانی شدہ لاگت کا تخمینہ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے سامنے پیش کیا، لیکن کمیٹی نے وقت کی کمی کے باعث اس تجویز پر غور مؤخر کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 666 ارب روپے کا عدد موجودہ نظرثانی شدہ تخمینہ ہے؛ اسے تمام متعلقہ فورمز سے حتمی منظوری یافتہ نئی لاگت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
دستاویزات کے مطابق لاگت میں اضافے کا بڑا حصہ شرح مبادلہ میں تبدیلی سے منسلک ہے، کیونکہ منصوبے کے کئی آلات، خدمات اور غیر ملکی کرنسی سے وابستہ اخراجات روپے کی قدر میں کمی سے متاثر ہوئے۔ تعمیراتی مدت بڑھنے سے مقامی اخراجات، کنٹریکٹ کی قیمتوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
مہمند ڈیم خیبر پختونخوا میں دریائے سوات پر زیر تعمیر کثیرالمقاصد منصوبہ ہے، جس سے بجلی پیداوار، آبپاشی، پانی کی فراہمی اور سیلابی خطرات میں کمی کے اہداف وابستہ ہیں۔ نظرثانی شدہ لاگت اور تکمیلی شیڈول پر حتمی صورت متعلقہ منصوبہ بندی اور منظوری فورمز کے فیصلوں کے بعد واضح ہوگی۔

