بیجنگ/ہانگ کانگ: چینی مصنوعی ذہانت کمپنی مون شاٹ اے آئی نے ہانگ کانگ میں ممکنہ ابتدائی عوامی پیشکش، آئی پی او، کے لیے خفیہ طور پر درخواست جمع کرا دی ہے۔ رائٹرز نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے 3 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ کمپنی تقریباً 3 ارب ڈالر تک سرمایہ اکٹھا کرنے کا ہدف زیر غور رکھ رہی ہے، تاہم پیشکش کا حتمی حجم، وقت اور قیمت مارکیٹ حالات اور ریگولیٹری منظوریوں پر منحصر ہوں گے۔

مون شاٹ اے آئی کِمی نامی بڑے زبان کے ماڈل کے لیے جانی جاتی ہے۔ کمپنی نے جولائی میں کِمی کے نئے ورژن کے اجرا کے بعد اپنی مصنوعات اور کاروباری شراکت داریوں کو توسیع دینے کی کوشش تیز کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق کمپنی امریکی کلاؤڈ اور ٹیکنالوجی اداروں مائیکروسافٹ، ایمیزون اور گوگل کے ساتھ ممکنہ ریونیو شیئرنگ اور ہوسٹنگ انتظامات پر بات چیت بھی کر رہی ہے۔ ایسے مذاکرات کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں ہوتے، اس لیے انہیں زیر بحث تجارتی امکانات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مون شاٹ کی حالیہ نجی ویلیو ایشن تقریباً 50 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ کمپنی نے 2023 میں قیام کے بعد علی بابا، ٹینسنٹ، میتوآن اور چائنا موبائل سمیت متعدد بڑے سرمایہ کاروں سے اربوں ڈالر کا سرمایہ حاصل کیا۔ ہانگ کانگ لسٹنگ کی تیاری ایسے وقت ہو رہی ہے جب چین کی اے آئی اور چپ کمپنیوں میں سرمایہ کار دلچسپی بڑھی ہے اور ہانگ کانگ کی مارکیٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بڑے سرمایہ اکٹھا کرنے کے مرکز کے طور پر دوبارہ فعال ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق مون شاٹ نے لسٹنگ ضروریات کے مطابق اپنی کارپوریٹ ساخت میں تبدیلی کی اور ممکنہ آئی پی او پر گولڈمین ساکس، سی آئی سی سی اور ڈوئچے بینک سمیت مالی اداروں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ یہ تفصیلات ذرائع پر مبنی ہیں اور کمپنی یا تمام متعلقہ بینکوں کی جانب سے ہر نکتے کی الگ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

کمپنی کو امریکا میں جدید چپس کے استعمال اور ماڈل ڈسٹلیشن سے متعلق سوالات کا بھی سامنا رہا ہے۔ امریکی حکام اور حریف کمپنیوں کی جانب سے بعض الزامات سامنے آئے، جبکہ مون شاٹ نے غلط یا غیرقانونی ماڈل نقل کرنے کے دعووں کی تردید کی۔ اس خبر میں ایسے نکات کو الزامات اور کمپنی کے موقف کے طور پر الگ رکھا گیا ہے؛ انہیں ثابت شدہ خلاف ورزی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کسی مجاز ادارے کی حتمی کارروائی یا فیصلہ سامنے نہ آئے۔

اگر آئی پی او آگے بڑھتا ہے تو یہ ایشیا کی اے آئی سرمایہ کاری کی دوڑ میں ایک بڑی پیش رفت ہوگا، مگر خفیہ فائلنگ صرف لسٹنگ عمل کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ حتمی پیشکش کے لیے ریگولیٹری منظوری، مارکیٹ حالات، سرمایہ کار طلب اور کمپنی کی اپنی حکمت عملی فیصلہ کن ہوں گے۔