اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا شدہ آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے پانچ عملہ ارکان میں تین پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں کے نام رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری ہیں۔ چار دیگر عملہ ارکان زخمی ہوئے جن میں تین پاکستانی شامل ہیں اور انہیں قریبی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایم ٹی آنر 25 کو اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔ پلاؤ کے پرچم بردار اس آئل ٹینکر پر مجموعی طور پر 19 افراد سوار تھے جن میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے۔ نیم خودمختار پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے بتایا کہ اس نے بندر بیلہ ضلع کے دھرین بار علاقے میں بحری اور زمینی یونٹس کے ذریعے ایک منصوبہ بند کارروائی کی، جس کے بعد جہاز کو بازیاب کر کے پنٹ لینڈ حکومت کے کنٹرول میں لے لیا گیا۔
پنٹ لینڈ حکام کے مطابق آپریشن کے اختتام پر 21 مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کیا گیا اور دیگر افراد کی تلاش جاری رہی۔ مقامی میری ٹائم پولیس نے یہ بھی کہا کہ آپریشن شروع ہونے سے پہلے قزاقوں نے جہاز کے پانچ عملہ ارکان کو قتل کر دیا تھا۔ ان میں تین پاکستانیوں کے علاوہ میانمار اور بھارت کا ایک ایک شہری شامل تھا۔ یہ بیان پنٹ لینڈ حکام کا مؤقف ہے، جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ہلاکتوں اور پاکستانی متاثرین کی شناخت کی تصدیق کی۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ ایم ٹی آنر 25 کے زندہ بچ جانے والے عملے کو بندر بیلہ میں بحفاظت ساحل پر لایا گیا ہے۔ جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے بندر بیلہ روانہ ہوئی۔ حکام کے مطابق زخمیوں کے علاج، جاں بحق افراد کی میتیں وطن منتقل کرنے اور بچ جانے والے پاکستانی ملاحوں کی محفوظ واپسی کے لیے صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے رابطہ برقرار ہے۔
جہاز کے اغوا کے بعد کئی ماہ تک مذاکرات اور مبینہ تاوان کی ادائیگی کے معاملے میں پیش رفت نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہی تھیں۔ عملے نے خوراک، صاف پانی اور ادویات کی کمی سے متعلق ویڈیو اور آڈیو پیغامات بھی جاری کیے تھے، جبکہ اہلِ خانہ نے اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن سمیت بین الاقوامی اداروں سے مدد کی اپیل کی تھی۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس دوران ملاحوں کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر رابطے میں رہا۔
