اسلام آباد: صومالیہ کے ساحل کے قریب اپریل میں ہائی جیک ہونے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملہ ارکان کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور انہیں ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا پہنچا دیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق عمران علی، محمد یاسین اور سید حسین یوسف پاکستان کے سفارت خانے کی ٹیم کے ہمراہ عدیس ابابا پہنچے اور پہلی دستیاب ایتھوپین ایئرلائنز پرواز سے کراچی روانہ ہونے کی توقع ہے، جو 7 اکتوبر کو متوقع بتائی گئی ہے۔
پالاؤ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو اپریل میں صومالی قزاقوں نے ہائی جیک کیا تھا۔ جہاز پر 19 افراد کا عملہ موجود تھا جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ گزشتہ ہفتے صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے جہاز واپس حاصل کرنے کی اطلاع دی تھی۔ اس کارروائی کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ تین پاکستانی جاں بحق ہوئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے کی گئی۔ چار زخمی پاکستانی اس سے قبل کراچی پہنچ چکے ہیں اور جاں بحق افراد کی میتیں بھی وطن منتقل کی گئی تھیں۔ باقی تین افراد کی بازیابی کے بعد پاکستانی عملے کے معاملے میں ایک اہم مرحلہ مکمل ہوا ہے، تاہم ان کی وطن واپسی اس وقت تک متوقع ہے جب تک پرواز اور آمد کی عملی کارروائی مکمل نہ ہو جائے۔
اسحاق ڈار نے صومالی حکومت اور یورپی یونین نیول فورس آپریشن اٹلانٹا کی مدد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ واقعے نے بحر ہند اور صومالی ساحل کے قریب تجارتی جہاز رانی کو لاحق بحری قزاقی کے خطرات کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ بیرون ملک پھنسے شہریوں اور بحری عملے کی معاونت کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے جائیں گے۔ دستیاب معلومات کے مطابق تینوں بازیاب افراد محفوظ مقام تک پہنچ چکے ہیں اور اب ان کی پاکستان واپسی کا مرحلہ باقی ہے۔
