اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 96 افراد کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ افراد اسلام آباد میں کشمیر کی صورتحال کے خلاف ہونے والے ایک احتجاج سے متعلق مقدمے میں گرفتار تھے، جس کی ایف آئی آر 31 جولائی کو تھانہ شالیمار میں دہشت گردی سے متعلق دفعات سمیت درج کی گئی تھی۔

پولیس ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مشتاق احمد نے سیکٹر ایف-10 میں تقریباً 400 سے 500 افراد کے مجمع کی قیادت کی، لاؤڈ اسپیکر پر اشتعال انگیز تقاریر کیں، بعض دکانیں بند کروائیں اور حکومتی اداروں کے خلاف نعرے لگوائے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی الزام تھا کہ مظاہرین نے سڑکیں بند کیں، ایک میڈیا گاڑی اور نجی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، پولیس پر پتھراؤ کیا اور بعض اہلکاروں سے اینٹی رائٹ ہیلمٹ چھینے۔ یہ تمام نکات استغاثہ کے الزامات ہیں اور ابھی عدالت میں حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئے۔

پیر کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستیں سنیں۔ سابق سینیٹر کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران شفیق جبکہ دیگر ملزمان کی جانب سے بھی مختلف وکلا پیش ہوئے۔ عدالت نے تمام 96 ملزمان کو 5,500 روپے فی کس کے مچلکوں کے عوض ضمانت دی۔ سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی نے استغاثہ کی نمائندگی کی۔

مشتاق احمد کو اس سے قبل 3 اگست کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، جبکہ استغاثہ نے اس وقت 30 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ مقدمے سے متعلق ایک گاڑی اور مبینہ ہتھیار برآمد کرنا ضروری ہیں۔ دفاعی وکلا نے گرفتاریوں اور دہشت گردی کی دفعات کے اطلاق کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت کی جانب سے ضمانت ملنے کا مطلب مقدمے سے بریت نہیں ہے۔ متعلقہ ملزمان کو آئندہ بھی عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا اور استغاثہ کو اپنے الزامات شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوں گے۔ مقدمہ سیاسی احتجاج، عوامی نظم و نسق اور انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال سے متعلق جاری قانونی بحث کا بھی حصہ بن گیا ہے۔