اسلام آباد: پاکستان نے جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارت کے تازہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کی یکطرفہ نقشہ سازی یا خودمختاری کے دعوے اس خطے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجّاد حیدر خان نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قدیم ترین حل طلب تنازعات میں شامل ہے۔
پاکستانی ردعمل اس وقت سامنے آیا جب بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بین الاقوامی نقشہ جاتی قرارداد کے تناظر میں کہا تھا کہ بھارتی حدود، بشمول جموں و کشمیر اور لداخ، اس کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھائی جانی چاہئیں اور اس سے انحراف قابل قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان نے اس مؤقف کو حقائق اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے منافی قرار دیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور خطے پر اس کا کنٹرول جموں و کشمیر کے متنازع درجے کو ختم نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادیں اس امر کی بنیاد فراہم کرتی ہیں کہ تنازع کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے جموں و کشمیر کو متنازع خطہ ظاہر کرتے ہیں اور پاکستان اسی بین الاقوامی فریم ورک کو قانونی حوالہ سمجھتا ہے۔
پاکستانی بیان میں بھارت کے اس موقف کو بھی رد کیا گیا کہ اس کے داخلی نقشے یا قانونی اقدامات خطے کی بین الاقوامی حیثیت پر فیصلہ کن اثر رکھتے ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی ایک ریاست کی داخلی قانون سازی یا انتظامی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکتا۔
کشمیر کا تنازع پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بنیادی اختلافات میں سے ایک ہے اور دونوں ملک اس کی قانونی و سیاسی تعبیر پر طویل عرصے سے متضاد مؤقف رکھتے ہیں۔ تازہ بیان میں پاکستان نے ایک بار پھر اس معاملے کو اقوام متحدہ کے فریم ورک سے جوڑا ہے، جبکہ بھارت اپنے سرکاری مؤقف کے تحت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔ اس اختلاف کے باعث نقشوں، سرحدی حوالوں اور بین الاقوامی دستاویزات میں استعمال ہونے والی زبان بھی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنازع کا سبب بنتی رہی ہے۔




