اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ این 25 کراچی، کوئٹہ اور چمن شاہراہ کو ’’پاکستان ایکسپریس وے‘‘ کے طور پر اپ گریڈ کرنے کے منصوبے کی لاگت 415 ارب روپے ہے۔ یہ بات گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بتائی گئی، جس میں صوبے کے جاری اور مجوزہ مواصلاتی منصوبوں، قومی شاہراہوں کی حالت اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزارت مواصلات کے سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی سیکریٹری مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین اور دیگر سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔ عبدالعلیم خان نے این 25 کو بلوچستان اور وسیع تر خطے کے لیے اہم تجارتی راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ایکسپریس وے میں تبدیلی سے کراچی اور کوئٹہ کے درمیان سفر کا وقت کم اور سامان کی نقل و حرکت بہتر ہونے کی توقع ہے۔ یہ فوائد حکومتی تخمینے اور منصوبے کے مقاصد ہیں؛ ان کے حصول کا حتمی اندازہ تعمیر مکمل ہونے اور عملی اعداد سامنے آنے کے بعد ہوگا۔
این 25 ساحلی و بندرگاہی علاقوں کو کوئٹہ اور افغان سرحد کے قریب چمن سے جوڑنے والی مرکزی زمینی راہداریوں میں شامل ہے۔ حکومت کے مطابق شاہراہ کی اپ گریڈیشن سے بلوچستان کے شہروں، زرعی و معدنی علاقوں اور تجارتی مراکز کو قومی نقل و حمل کے نظام کے ساتھ زیادہ محفوظ اور تیز رابطہ مل سکتا ہے۔ اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو اعلیٰ ترجیح کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کا اعادہ کیا گیا۔
گورنر بلوچستان نے این 25 کو ترجیح دینے پر وفاقی حکومت اور این ایچ اے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کے بنیادی مواصلاتی راستوں کی بہتری سے مقامی آبادی، مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ شرکا نے ژوب بائی پاس کی تعمیر اور بلوچستان کے دیگر سڑک رابطوں میں مزید بہتری کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دستیاب سرکاری بیان میں 415 ارب روپے کی رقم کو منصوبے کی مجموعی لاگت کے طور پر بیان کیا گیا، لیکن فنڈز کے مکمل اجرا، ہر سیکشن کے تعمیراتی مرحلے، ٹھیکوں کی تفصیل، تکمیل کی حتمی تاریخ یا ٹول نظام سے متعلق نئی معلومات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح کراچی سے کوئٹہ سفر میں متوقع کمی کا عدد بھی جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے اجلاس کا تصدیق شدہ نتیجہ منصوبے کی اہمیت، لاگت اور بروقت تکمیل کے سرکاری عزم کا اعادہ ہے، جبکہ عملی رفتار اور مالی پیش رفت کا جائزہ متعلقہ منصوبہ جاتی دستاویزات اور این ایچ اے کی آئندہ رپورٹس سے ممکن ہوگا۔




