اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی سے متعلق اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس بل 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی اجلاس میں 12 ارکان موجود تھے جن میں سے آٹھ نے بل کے حق میں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چار ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ نظام وفاقی دارالحکومت میں موجودہ بلدیاتی ڈھانچے کی جگہ تین کونسلوں پر مشتمل انتظام متعارف کرانے کی سمت پیش رفت ہے، جن کے لیے الگ میئر رکھنے کی تجویز زیر بحث رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے ڈھانچے سے شہری انتظام اور خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے گا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے کمیٹی میں بل کی مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی جماعت باضابطہ اختلافی نوٹ جمع کرائے گی۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر اور انتظامی اختیارات کے ڈھانچے پر سوالات اٹھائے۔ حکومتی ارکان نے اس کے جواب میں مجوزہ قانون کو وفاقی دارالحکومت کی انتظامی ضروریات سے جوڑا۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومت کا ڈھانچہ کئی برس سے قانونی اور سیاسی بحث کا موضوع رہا ہے۔ آبادی میں اضافے، شہری پھیلاؤ، پانی، صفائی، سڑکوں اور مقامی منصوبہ بندی جیسے معاملات نے ایک فعال منتخب بلدیاتی نظام کی ضرورت کو نمایاں رکھا ہے۔ نئے بل کے ناقدین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ قانون سازی کا عمل انتخابات کے بروقت انعقاد کو متاثر نہ کرے، جبکہ حامی اسے موجودہ نظام کی تنظیم نو کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کی منظوری قانون سازی کے عمل کا ایک مرحلہ ہے اور بل کو حتمی قانونی شکل دینے کے لیے پارلیمانی طریقہ کار کے مزید مراحل درکار ہوں گے۔ اس دوران پیپلز پارٹی کا اختلافی نوٹ اور دیگر جماعتوں کی تجاویز آئندہ بحث میں اہم رہیں گی۔