اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے اسلام آباد کی بلدیاتی ساخت تبدیل کرنے والا اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ یہ منظوری پارلیمانی کمیٹی کی سطح پر ہوئی ہے؛ بل ابھی مکمل قومی اسمبلی اور دیگر لازمی قانون سازی مراحل سے گزرنے کے بعد ہی نافذ قانون بن سکتا ہے۔

کاروباری اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی کا اجلاس رکنِ قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد نواز کی صدارت میں 3 ستمبر کو ہوا۔ مجوزہ قانون کے خلاصے میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جگہ تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جن کی حدود broadly قومی اسمبلی کے حلقوں کے مطابق رکھنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ حتمی جغرافیائی حدود، انتظامی تقسیم اور ادارہ جاتی ذمہ داریاں قانون سازی اور بعد کے قواعد یا نوٹیفکیشن سے واضح ہوں گی۔

بل میں منتخب بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہونے پر وفاقی حکومت کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ چھ ماہ کی حد ختم کرنے، ایڈمنسٹریٹرز کو چوتھے شیڈول کے مطابق ٹیکس اور فیس عائد کرنے کی اجازت دینے، اور وفاقی حکومت کو بلدیاتی حکومتوں یا ایڈمنسٹریٹرز کے لیے لازم ہدایات جاری کرنے کا اختیار دینے کی دفعات زیرِ غور ہیں۔ یہ تمام نکات ابھی مجوزہ قانونی شقیں ہیں، نافذ شدہ اختیارات نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بار بار قانون سازی اور آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی سید رفیع اللہ نے حکومت سے واضح انتخابی پالیسی مانگی، جبکہ عبدالقادر پٹیل نے سیکشن 29 کے تحت عوامی نمائندے کی جگہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی تجویز پر اعتراض کیا۔ یہ اپوزیشن ارکان کا مؤقف ہے؛ کمیٹی یا عدالت کی جانب سے انتخابی تاخیر کے ارادی ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔

ووٹنگ کے بعد بل اکثریتی رائے سے منظور ہوا۔ پیپلز پارٹی کے سید رفیع اللہ، جمال رئیسانی، نبیل گبول اور عبدالقادر پٹیل کے ساتھ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے خوشحال خان کاکڑ نے اختلافی نوٹ پر دستخط کیے۔ اختلافی نوٹ میں آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کی ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے میں سہولت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

بل کے پس منظر میں 9 جنوری 2026 کو جاری اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے 16 جنوری کو بلدیاتی انتخاب کا شیڈول واپس لیا، بعد ازاں آرڈیننس کو 9 مئی سے مزید 120 دن کے لیے توسیع دی گئی اور اس کی مدت 5 ستمبر کو ختم ہونا تھی۔ کمیٹی اجلاس میں بعض ارکان نے سوال اٹھایا کہ مدت ختم ہونے کے قریب آرڈیننس سے متعلق قانون سازی کیوں کی جا رہی ہے۔

کمیٹی کی منظوری سے بل کا پارلیمانی سفر آگے بڑھا ہے، مگر اسلام آباد میں نئی تین ٹاؤن کارپوریشنز فوری طور پر قائم نہیں ہوئیں۔ حتمی صورتِ حال اس بات پر منحصر ہوگی کہ ایوان بل کو کس متن میں منظور کرتے ہیں، صدر کی توثیق کب ہوتی ہے، الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندی یا انتخابی شیڈول پر کیا فیصلہ کرتا ہے، اور ممکنہ عدالتی یا سیاسی اعتراضات کیسے نمٹائے جاتے ہیں۔