قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے صنفی مرکزی دھارا نے خواتین اور بچیوں پر تشدد کے مقدمات کی مکمل قانونی پیش رفت کی نگرانی کے لیے مرکزی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کرنے اور اسلام آباد پولیس میں ’’سنگین کیس سیل‘‘ قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیر صدارت 4 ستمبر 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے کمیٹی کے 27ویں اجلاس میں ارکان نے حالیہ واقعات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ صرف مقدمہ درج کرنا یا انکوائری کمیٹی بنانا کافی نہیں، بلکہ ہر کیس کو ابتدائی شکایت سے حتمی عدالتی تصفیے تک مسلسل دیکھا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے سرکاری اعلامیے کے مطابق مجوزہ ڈیش بورڈ میں مقدمے کے اندراج، تفتیش، شواہد محفوظ کرنے، پراسیکیوشن، ٹرائل اور حتمی فیصلے یا تصفیے تک ہر مرحلے کی پیش رفت ریکارڈ کی جائے گی۔ کمیٹی نے سیکریٹری وزارت انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرل پولیس اور اسلام آباد کے متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے مشترکہ نظام تیار کریں۔ یہ ہدایت منصوبہ بندی اور بین الادارہ جاتی رابطے کا آغاز ہے؛ ڈیش بورڈ ابھی قائم یا فعال ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کے اندر سنگین کیس سیل قائم کرنے کی سفارش بھی کی، جو خواتین اور بچوں کے خلاف شدید تشدد کے اہم مقدمات کی مسلسل ادارہ جاتی نگرانی کرے۔ مجوزہ سیل کا مقصد یہ دیکھنا بتایا گیا ہے کہ کیس تفتیش سے پراسیکیوشن اور عدالت تک پہنچتے ہوئے کسی انتظامی خلا، غیر ضروری تاخیر یا رابطے کی کمی کا شکار نہ ہو۔ اعلامیے میں سیل کے عملے، قانونی اختیار، بجٹ، آغاز کی تاریخ یا یہ طے نہیں کیا گیا کہ کس معیار پر کوئی مقدمہ ’’سنگین‘‘ شمار ہوگا۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے زور دیا کہ فوجداری انصاف کے ردعمل کی کامیابی صرف ایف آئی آر کی تعداد سے نہیں بلکہ معتبر تفتیش، درست شواہد، بروقت پراسیکیوشن اور عدالتی نتیجے سے جانچی جانی چاہیے۔ کمیٹی نے خواتین پر تشدد کے مقدمات میں سزا کی شرح سے متعلق جامع رپورٹس بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ نظام میں رکاوٹ تفتیش، شواہد، پراسیکیوشن، عدالتی تاخیر یا کسی اور مرحلے پر پیدا ہوتی ہے۔ سزا کی شرح کے نئے اعداد اجلاس کے اعلامیے میں فراہم نہیں کیے گئے۔

کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی حکام سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ مقدمات میں تیز، غیر جانب دار اور شفاف تفتیش اور قانون کے مطابق بروقت پراسیکیوشن یقینی بنائی جائے۔ اس نے غفلت، تاخیر، مداخلت، متاثرہ فرد کو تحفظ نہ دینے یا شواہد محفوظ نہ کرنے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی بھی بات کی۔ یہ عمومی نگرانی اور جواب دہی کی ہدایت ہے؛ اعلامیے میں کسی مخصوص افسر کو قصوروار قرار نہیں دیا گیا اور نہ کسی نامزد شخص کے خلاف حتمی محکمانہ یا قانونی نتیجہ سامنے آیا۔

مرکزی ڈیش بورڈ مختلف صوبوں اور اسلام آباد کے ریکارڈ کو ایک جگہ جمع کرکے مقدمات کی پیش رفت، زیر التوا مراحل اور اداروں کی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ تاہم حساس ذاتی معلومات، متاثرین کی شناخت، بچوں کے ریکارڈ، عدالتی رازداری اور رسائی کے اختیارات کے لیے مضبوط ڈیٹا تحفظ ضروری ہوگا۔ سرکاری بیان نے یہ واضح نہیں کیا کہ ڈیش بورڈ عوام کے لیے کھلا ہوگا، صرف مجاز ادارے استعمال کریں گے یا پارلیمانی نگرانی کے لیے مجموعی اعداد فراہم کرے گا۔ ان امور کو تکنیکی اور قانونی ڈیزائن میں طے کرنا ہوگا۔

اجلاس میں وزارت انسانی حقوق نے قومی ’’کیئر اکانومی‘‘ پالیسی کی تیاری پر بھی بریفنگ دی۔ مجوزہ فریم ورک میں بچوں، بزرگوں، معذور افراد، برادری پر مبنی دیکھ بھال اور بلا معاوضہ گھریلو نگہداشت کے کام کو شامل کرنے کی بات ہوئی۔ کمیٹی نے پالیسی میں اداروں کی ذمہ داریاں، قانون و خدمات کے خلا، بلا معاوضہ کام کی معاشی قدر، وسائل اور نگرانی کا واضح نظام شامل کرنے پر زور دیا اور وزارت خزانہ، منصوبہ بندی کمیشن اور ادارۂ شماریات سے رابطہ اور باقاعدہ ٹائم یوز سروے تجویز کیے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت خصوصی کمیٹی کی سفارشات، وزارت انسانی حقوق کو صوبائی پولیس سربراہان سے رابطے کی ہدایت، اسلام آباد پولیس میں سنگین کیس سیل کی تجویز اور سزا کی شرح کی رپورٹس طلب کرنے کا فیصلہ ہے۔ ڈیش بورڈ یا سیل کے عملی قیام، قانونی اختیار اور نتائج کا تعین متعلقہ اداروں کی آئندہ کارروائی اور باقاعدہ نوٹیفکیشن سے ہوگا۔