اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ملک میں تاجروں کی ٹیکس رجسٹریشن اور اس شعبے سے ہونے والی محدود وصولیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے تفصیلی اعداد و شمار طلب کیے ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ معیشت میں خوردہ اور تھوک تجارت کے بڑے حجم کے باوجود ٹیکس نیٹ میں تاجروں کی مؤثر شمولیت کیوں محدود ہے اور مختلف رجسٹریشن اقدامات کے باوجود محصولات میں نمایاں اضافہ کیوں نہیں ہوا۔
کمیٹی اجلاس میں ایف بی آر حکام نے تاجروں کو دستاویزی معیشت میں لانے کے لیے کیے گئے اقدامات اور رجسٹریشن کے طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ ارکان نے کہا کہ صرف رجسٹریشن کی مجموعی تعداد کافی پیمانہ نہیں، بلکہ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کتنے رجسٹرڈ افراد باقاعدگی سے ریٹرن جمع کرا رہے ہیں اور ان سے حقیقتاً کتنا ٹیکس وصول ہو رہا ہے۔ اسی لیے ایف بی آر سے مزید تفصیلی اور قابل موازنہ معلومات فراہم کرنے کو کہا گیا۔
پاکستان میں ریٹیل اور ہول سیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا معاملہ کئی برس سے مالیاتی پالیسی کا اہم موضوع ہے۔ حکومتیں مختلف ادوار میں تاجروں کے لیے رجسٹریشن اسکیمیں، آسان ریٹرنز اور خصوصی نظام متعارف کراتی رہی ہیں، لیکن تاجروں کی تنظیموں نے بجلی کے بلوں، تخمینی ٹیکس، دستاویزات اور کاروباری لاگت سے متعلق اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔ اس پس منظر میں پارلیمانی کمیٹی کی تازہ جانچ انتظامی کارکردگی اور اصل محصولات دونوں پر مرکوز ہے۔
کمیٹی کی کارروائی کو کسی نئے ٹیکس یا فوری جرمانے کے حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بنیادی پیش رفت ایف بی آر سے اعداد و شمار اور وضاحت طلب کرنا ہے۔ آئندہ پالیسی تبدیلی، نئی شرح یا نفاذی اقدام کے لیے حکومت یا ایف بی آر کا الگ باضابطہ فیصلہ ضروری ہوگا۔
ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس پالیسی میں مساوات برقرار رہنی چاہیے تاکہ تنخواہ دار طبقے اور پہلے سے دستاویزی کاروباروں پر بوجھ بڑھانے کے بجائے ایسے شعبوں سے مناسب حصہ حاصل کیا جائے جو معاشی سرگرمی میں نمایاں کردار رکھتے ہیں مگر ٹیکس وصولی میں ان کا حصہ نسبتاً محدود ہے۔ ایف بی آر کے لیے چیلنج یہ ہے کہ رجسٹریشن بڑھانے کے ساتھ رضاکارانہ تعمیل، درست گوشواروں اور حقیقی ادائیگی کو بھی بہتر بنایا جائے۔
کمیٹی کی جانب سے طلب کردہ تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ زیادہ واضح ہوگا کہ تاجر دوست یا دیگر رجسٹریشن اقدامات کے تحت کتنے کاروبار فعال ٹیکس دہندگان بنے اور ان سے کتنی آمدنی حاصل ہوئی۔ اسی ڈیٹا کی بنیاد پر پارلیمان حکومت کی حکمت عملی، اہداف اور نفاذ کی مؤثریت کا مزید جائزہ لے سکے گی۔

