لاہور: پاکستان میں رواں سیزن کے دوران 31 اکتوبر تک جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد 47 لاکھ 42 ہزار سے زائد گانٹھوں تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.88 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 31 اکتوبر تک 44 لاکھ 37 ہزار کے قریب گانٹھیں فیکٹریوں میں پہنچی تھیں۔
صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں تقریباً 19 لاکھ 99 ہزار گانٹھیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے زون میں مجموعی آمد 27 لاکھ 43 ہزار سے زائد رہی۔ بلوچستان میں کپاس کی آمد میں سالانہ بنیاد پر 35.41 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ ضلع وار اعداد و شمار میں سانگھڑ 12 لاکھ 10 ہزار گانٹھوں کے ساتھ نمایاں رہا، جبکہ بہاولنگر میں 5 لاکھ 26 ہزار سے زائد گانٹھیں رپورٹ ہوئیں۔
پی سی جی اے کے مطابق ٹیکسٹائل ملوں نے تقریباً 39 لاکھ 97 ہزار گانٹھیں خریدیں اور برآمد کنندگان نے 98 ہزار گانٹھیں حاصل کیں، جس کے بعد 6 لاکھ 48 ہزار سے زائد گانٹھیں فروخت کے لیے دستیاب رہیں۔ یہ اعداد کپاس کی فیکٹری آمد اور خریداری کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں، انہیں حتمی قومی پیداوار کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ فصل کا سیزن اور مارکیٹنگ کا عمل ابھی جاری ہے۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے ڈان کو بتایا کہ ستمبر اور اکتوبر کے عروج کے عرصے میں مسلسل دوسرے سال کسی ایک پندرہ روزہ مدت میں کپاس کی آمد 10 لاکھ گانٹھوں تک نہیں پہنچ سکی۔ ان کے مطابق روایتی کاٹن زونز میں گنے کی کاشت کا پھیلاؤ اور نئی شوگر ملوں کا قیام کپاس کے رقبے اور بحالی پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے غیر معمولی بلند درجہ حرارت کو بھی بیج کے اگاؤ اور فائبر کے معیار کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
رپورٹ میں پی سی جی اے اور پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس کے اعداد و شمار میں فرق بھی سامنے آیا ہے۔ پی سی جی اے نے پنجاب میں 31 اکتوبر تک تقریباً 20 لاکھ گانٹھیں رپورٹ کیں، جبکہ صوبائی کراپ رپورٹنگ سروس نے 29 اکتوبر تک اس سے زیادہ پیداوار کا تخمینہ دیا تھا۔ مختلف اداروں کے اعداد کا طریقہ کار اور پیمائش الگ ہونے کے باعث اس فرق کی مزید وضاحت ضروری ہے۔
کپاس پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کا بنیادی خام مال ہے اور فائبر کے معیار میں کمی سے ملوں کو اعلیٰ معیار کی درآمدی کپاس پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ فصل 60 لاکھ گانٹھوں سے تجاوز کر سکتی ہے، لیکن یہ ایک تخمینہ ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔ آنے والے ہفتوں میں باقی فصل کی آمد، موسم اور مارکیٹ خریداری سے مجموعی سیزن کی حقیقی صورتحال مزید واضح ہوگی۔

