مسلسل اپ ڈیٹس

کپاس (فصل 2026): آمد، معیار اور مارکیٹ

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 31 اکتوبر تک جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد 47 لاکھ 42 ہزار گانٹھوں سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 6.88 فیصد زیادہ ہے۔ صوبائی تقسیم میں پنجاب میں تقریباً 19 لاکھ 99 ہزار گانٹھیں، سندھ و بلوچستان کے زون میں مجموعی طور پر 27 لاکھ 43 ہزار گانٹھیں رپورٹ ہوئیں؛ بلوچستان میں سالانہ بنیاد پر آمد میں 35.41 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ضلع وار اعداد و شمار میں سانگھڑ تقریباً 12 لاکھ 10 ہزار اور بہاولنگر میں تقریباً 5 لاکھ 26 ہزار گانٹھیں ریکارڈ کی گئیں۔ پی سی جی اے کے مطابق ٹیکسٹائل ملوں نے تقریباً 39 لاکھ 97 ہزار گانٹھیں خریدیں، برآمد کنندگان نے 98 ہزار گانٹھیں حاصل کیں اور لگ بھگ 6 لاکھ 48 ہزار گانٹھیں فروخت کے لیے دستیاب رہیں۔ صنعت اور ماہرین نے شدید گرمی، روایتی کپاس کے علاقوں میں گنے کی توسیع اور نئی شوگر ملوں کے قیام کو کپاس کے رقبے اور فائبر معیار کے لیے دباؤ قرار دیا؛ کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے ستمبر و اکتوبر کے عروج میں کسی پندرہ روزہ مدت میں آمد ایک لاکھ گانٹھوں تک نہ پہنچنے کی نشاندہی کی۔ مختلف اداروں کے اعدادوشمار میں فرق بھی سامنے آیا — پی سی جی اے نے پنجاب کے لیے تقریباً 20 لاکھ گانٹھیں رپورٹ کیں جبکہ پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس نے 29 اکتوبر تک اس سے زیادہ (قریباً 35 لاکھ 77 ہزار) پیداوار کا تخمینہ دیا — یہ فرق طریقۂ کار اور دائرۂ کار کی وضاحت کا تقاضا کرتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ فصل 60 لاکھ گانٹھوں سے تجاوز کر سکتی ہے مگر یہ حتمی نتیجہ نہیں؛ آمد، موسم اور مارکیٹ خریداری آئندہ ہفتوں میں مجموعی سیزن کی حقیقی صورتحال واضح کریں گے۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے