اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے قدرتی گیس سے متعلق آمدن اور فنڈز کے استعمال میں تبدیلی کے لیے پیش کیے گئے دو سرکاری ترمیمی بلوں پر غور مؤخر کر دیا ہے۔ 4 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے ابتدا ہی میں درخواست کی کہ نیچرل گیس ڈویلپمنٹ سرچارج ترمیمی بل اور گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) ترمیمی بل کو ایجنڈے پر زیرِ بحث نہ لایا جائے۔

اجلاس کی صدارت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کمیٹی چیئرمین سید مصطفیٰ محمود نے کی۔ ارکان کی گفتگو کے بعد کمیٹی نے دونوں بل مؤخر کر دیے۔ یہ فیصلہ بلوں کی حتمی منظوری یا مستقل مسترد کیے جانے کے مترادف نہیں؛ حکومت انہیں آئندہ اجلاس میں دوبارہ پیش کر سکتی ہے، ترمیم کر سکتی ہے یا سیاسی مشاورت کے بعد پارلیمانی عمل آگے بڑھا سکتی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن نے جی آئی ڈی سی قانون میں تبدیلی کے ذریعے جمع شدہ فنڈز کے استعمال کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز دی تھی۔ موجودہ مخصوص مقاصد میں پاکستان-ایران، ترکمانستان-پاکستان اور ملک کے اندر گیس پائپ لائنوں کی ترقی شامل ہے، جبکہ مجوزہ ترمیم سے رقم کو تیل اور گیس کے اسٹریٹجک ذخائر کے لیے بھی استعمال کرنے کی گنجائش پیدا ہونا تھی۔ دستیاب سرکاری و پارلیمانی معلومات کے مطابق تقریباً 295 ارب روپے سرکاری خزانے میں غیر استعمال شدہ پڑے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کھاد بنانے والی کمپنیوں نے صارفین سے 400 ارب روپے سے زیادہ سیس وصول کیا، لیکن قانونی تنازعات کے باعث یہ رقم قومی خزانے میں جمع نہیں ہو سکی۔ یہ رقم اور 295 ارب روپے الگ قانونی و مالی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے دونوں کو یکجا کرکے حکومت کے فوری دستیاب فنڈز سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ مقدمات اور وصولی کے طریقۂ کار کا نتیجہ اس رقم کے استعمال پر اثر انداز ہوگا۔

کمیٹی چیئرمین مصطفیٰ محمود نے کہا کہ کھاد کمپنیوں کو سستی گیس اسی صورت ملنی چاہیے جب اس کا فائدہ کسان تک پہنچے۔ یہ نکتہ گیس کی رعایتی فراہمی، کھاد کی قیمت اور زرعی صارفین کو حقیقی فائدے کے تعلق سے اٹھایا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر کوئی حتمی نرخ یا پالیسی منظور نہیں کی۔

اجلاس کے بعد نوید قمر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی باقاعدہ اتحادی جماعت نہیں بلکہ اسے پارلیمانی حمایت دے رہی ہے، اور یہ تعلق یک طرفہ طور پر غیر معینہ مدت تک نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق جماعت نے آزاد کشمیر کے انتخابات، ججوں کی تقرری اور دیگر امور پر اپنے تحفظات حکومت تک پہنچائے ہیں اور قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہونے تک حمایت محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کا سیاسی مؤقف ہے؛ حکومت کی جانب سے ان تمام دعوؤں پر تفصیلی جواب دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

نوید قمر نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ بل پر بھی اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ حکومت ایک روز پہلے اسے متعلقہ کمیٹی سے جلد منظور کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ پیپلز پارٹی نے اس پر اختلافی نوٹ جمع کرایا ہے۔ گیس کے دونوں بل مؤخر ہونے سے حکمران جماعت کو پارلیمانی عددی حمایت اور اتحادی نوعیت کے تعاون پر دوبارہ گفت و شنید کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اگلا مرحلہ قائمہ کمیٹی کے نئے اجلاس، حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مشاورت، اور بلوں کے متن یا ایجنڈے میں ممکنہ تبدیلی سے طے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ صرف یہ ہے کہ دونوں ترمیمی بلوں پر بحث اور منظوری کا عمل رک گیا ہے؛ ان کی قانونی حیثیت میں کوئی حتمی تبدیلی نہیں ہوئی۔