اسلام آباد: نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کا عمل پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر منتقل کر دیا ہے، جس سے ابتدائی مرحلے کے تقریباً 31 لاکھ مستفید افراد گھر بیٹھے اپنی زندگی کی تصدیق مکمل کر سکتے ہیں۔ نادرا نے 20 اگست 2026 کو اس سہولت کو مفت اور وسیع طور پر قابلِ رسائی بنانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ 4 ستمبر کو سامنے آنے والی عملی تفصیلات کے مطابق پہلے 10 سے 12 دن میں تقریباً ایک لاکھ افراد سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے تھے۔
پروف آف لائف سرٹیفکیٹ وہ دورانیہ وار تصدیق ہے جس کے ذریعے پنشن ادا کرنے والا ادارہ یہ جانچتا ہے کہ مستفید شخص زندہ اور ادائیگی حاصل کرنے کا اہل ہے۔ ماضی میں بہت سے پنشنرز کو بینک، سرکاری دفتر یا متعلقہ ادارے میں جسمانی طور پر حاضر ہونا پڑتا تھا۔ نئی سہولت اس تصدیقی سفر کو موبائل فون کے ذریعے انجام دینے کی اجازت دیتی ہے؛ یہ پنشن کی رقم، بنیادی اہلیت، سروس ریکارڈ یا ادائیگی کے دوسرے قانونی تقاضوں میں خودکار تبدیلی نہیں کرتی۔
پہلے مرحلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے براہِ راست پنشنرز، فوجی سرکاری پنشن وصول کنندگان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی مستفیدین شامل ہیں۔ نادرا کے مطابق دوسرے اور تیسرے مراحل میں سرکاری ملکیت کے اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی نظام میں شامل کرنے کا ہدف ہے۔ ہر فرد کی عملی دستیابی اس بات سے بھی وابستہ ہوگی کہ متعلقہ پنشن ادا کرنے والا محکمہ یا ادارہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کو اپنے ریکارڈ سے کس طرح منسلک کرتا ہے۔
پاک آئی ڈی ایپ اس عمل میں اسمارٹ فون کے کیمرے اور دستیاب بایومیٹرک طریقوں سے چہرے یا فنگر پرنٹ کی شناخت استعمال کرتی ہے۔ نادرا کے ترجمان سید شباہت علی کے مطابق بڑی عمر میں انگلیوں کے نشانات مدھم ہونے کے باعث فنگر پرنٹ میچ میں دشواری آ سکتی ہے، اس لیے چہرہ شناخت اہم متبادل فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر، یعنی 95 فیصد سے زائد معاملات میں چہرہ شناخت کامیاب رہتی ہے اور اگر فنگر پرنٹ نہ ملے مگر چہرہ درست طور پر میچ ہو جائے تو عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
جو پنشنر خود موبائل استعمال نہ کر سکے وہ ایپ میں ’بائی ادر ریلیٹوز‘ کا اختیار منتخب کرکے قریبی رشتہ دار سے مدد لے سکتا ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر شدید بیماری، نقل و حرکت کی کمی، عمر رسیدگی یا دور دراز مقام پر رہائش رکھنے والے افراد کے لیے اہم ہے۔ بیرونِ ملک پنشنرز کے لیے بھی گھر یا رہائش گاہ سے تصدیق سفر، دستاویز کی تصدیق اور دفتر جانے کی لاگت کم کر سکتی ہے۔
عرب نیوز پاکستان نے دو عمر رسیدہ پنشنرز کے تجربات رپورٹ کیے جن کے لیے طویل سفر یا بینک کی قطار میں انتظار جسمانی طور پر مشکل تھا۔ ان مثالوں سے نظام کی ممکنہ سہولت واضح ہوتی ہے، مگر ایک یا چند صارفین کا تجربہ پورے ملک میں ہر فون، نیٹ ورک، بینک یا پنشن دفتر کی کارکردگی کا حتمی پیمانہ نہیں۔ اصل کامیابی درخواست مکمل ہونے، سرٹیفکیٹ کے متعلقہ ادارے تک پہنچنے اور ادائیگی میں غیر ضروری رکاوٹ نہ آنے سے جانچی جائے گی۔
ڈیجیٹل سہولت استعمال کرتے ہوئے صارفین کو صرف سرکاری پاک آئی ڈی ایپ یا نادرا کے منظور شدہ چینل استعمال کرنے، او ٹی پی، پاس ورڈ اور شناختی معلومات کسی غیر متعلق شخص کے ساتھ شیئر نہ کرنے اور درخواست کی رسید یا حوالہ محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بایومیٹرک ناکامی، غلط ریکارڈ یا ادائیگی رکنے کی صورت میں نادرا اور متعلقہ پنشن ادا کرنے والے ادارے کے شکایتی طریقۂ کار سے رجوع کرنا ہوگا۔
موجودہ مصدقہ پیش رفت مفت آن لائن پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کا پہلے مرحلے میں اجرا ہے۔ تمام سرکاری و نیم سرکاری پنشنرز کی مکمل شمولیت ابھی مرحلہ وار عمل ہے، اس لیے بعد کے گروپوں کے لیے رسائی، ادارہ جاتی انضمام اور کسی متبادل آف لائن طریقے کی تفصیل نادرا کے آئندہ اعلانات سے واضح ہوگی۔




