اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے حکومت کو آئندہ 800 میگاواٹ قابلِ تجدید بجلی کی وہیلنگ نیلامی میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم لازمی قرار دینے کی اجازت دے دی ہے۔ منظوری وہیلنگ آکشن پراسیس میں ترامیم کے ذریعے دی گئی، جس کے بعد انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر نیلامی کی باضابطہ درخواستِ تجاویز جاری کر سکے گا۔
ترمیم شدہ شرط کے تحت شمسی یا ہوا کی ٹیکنالوجی کے ساتھ بولی دینے والا منصوبہ اسی مقام پر ایسا بیٹری اسٹوریج نظام نصب کرے گا جس کی firm capacity متعلقہ پیداواری سہولت کی firm capacity کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہو۔ یہ کم از کم حد ہے؛ شرکا مالی اور تکنیکی موزونیت کے مطابق اس سے زیادہ اسٹوریج بھی تجویز کر سکتے ہیں۔
800 میگاواٹ کی مجموعی مجوزہ نیلامی کا پہلا بلاک 400 میگاواٹ ہوگا۔ نیپرا کی منظوری کے مطابق آئی ایس ایم او ستمبر 2026 کے دوران پہلے بلاک کے لیے ریکویسٹ فار پروپوزل جاری کرنے کی تیاری کر سکتا ہے۔ پہلی نیلامی میں بولی دہندگان کو آر ایف پی کی اشاعت کے بعد دو ماہ دیے جائیں گے اور یہ مدت غیر قابلِ توسیع ہوگی؛ بعد کی نیلامیوں کے لیے تجویز جمع کرانے کی مدت ایک ماہ رکھی گئی ہے۔
نیپرا نے شکایات کے لیے تین رکنی الگ کمیٹی کی تشکیل بھی منظور کی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے، جبکہ آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر اس کے ارکان ہوں گے۔ اس بندوبست کا مقصد اہلیت جانچنے والی آکشن کمیٹی سے شکایتی فورم الگ رکھنا اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو کم کرنا ہے۔
بیٹری اسٹوریج کی شرط کا بنیادی جواز بجلی نظام میں بڑھتے ہوئے “ڈک کرو” مسئلے سے نمٹنا بتایا گیا ہے۔ دن میں چھتوں پر نصب شمسی نظاموں کے باعث گرڈ سے طلب کم ہوسکتی ہے، مگر شام میں شمسی پیداوار گھٹنے پر صارفین ایک ساتھ گرڈ پر واپس آتے ہیں اور طلب تیزی سے بڑھتی ہے۔ بیٹریاں اضافی بجلی محفوظ کرکے ضرورت کے وقت فراہم کر سکتی ہیں، جس سے پیداوار اور طلب میں اچانک فرق محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آئی ایس ایم او کی مالی ماڈلنگ کے مطابق ایک حد تک اسٹوریج بڑھانے سے منصوبے کی مالی واپسی بہتر ہوسکتی ہے۔ مشاورت میں شامل بیشتر ممکنہ شرکا نے گرڈ کی لچک کے لیے بیٹریوں کی اہمیت تسلیم کی، تاہم لاگت اور قابلِ عمل بولی کے توازن کے لیے 10 فیصد کو ابتدائی لازمی حد بنایا گیا۔ اصل بولی قیمت، بیٹری دورانیہ، چارجنگ طریقہ اور تکنیکی کارکردگی ہر منصوبے کی تجویز اور آر ایف پی کی تفصیلات سے طے ہوگی۔
یہ منظوری اس بات کا اعلان نہیں کہ 800 میگاواٹ بجلی پہلے ہی خرید لی گئی یا منصوبے تعمیر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے جولائی میں بیٹری شرط کی تجویز دی تھی، جبکہ 4 ستمبر کی پیش رفت اس شرط کو نیپرا کے منظور شدہ نیلامی طریقۂ کار میں شامل کرنے کا ریگولیٹری مرحلہ ہے۔ اب بھی آر ایف پی، بولیاں، اہلیت، قیمتوں کا مقابلہ، شکایتی عمل اور کامیاب شرکا کا انتخاب باقی ہے۔
پاکستان تین دہائیوں سے زیادہ تاخیر کے بعد بجلی کی مسابقتی منڈی کی جانب بتدریج بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نیلامی کی کامیابی کا جائزہ صرف مختص میگاواٹ سے نہیں بلکہ حاصل شدہ قیمت، گرڈ سے کنکشن، اسٹوریج کی حقیقی دستیابی، ادائیگی کے نظم اور مقررہ وقت میں منصوبوں کی تکمیل سے ہوگا۔




