مظفرآباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر محمد نجيب نقی 24 ستمبر کو آزاد جموں و کشمیر کے نئے صدر منتخب ہو گئے۔ صدارتی انتخاب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں ہوا، جہاں ڈاکٹر نقی نے 32 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کو 13 ووٹ ملے۔

ڈان کے مطابق پولنگ صبح 11 بجے شروع ہوئی اور دوپہر ایک بجے مکمل ہوئی۔ آزاد جموں و کشمیر کے آئینی طریقہ کار کے تحت صدر کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں اور کامیابی کے لیے مقررہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ انتخابی نتیجے کے بعد ڈاکٹر نجيب نقی نے ریاستی صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کی راہ ہموار کر لی ہے۔

یہ عہدہ رواں سال جنوری سے مستقل صدر کے بغیر تھا، جب سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں اسمبلی کی قیادت سے وابستہ شخصیات نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ چوہدری لطیف اکبر بھی قائم مقام صدر رہ چکے ہیں، جبکہ بعد میں اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے یہ آئینی ذمہ داری سنبھالی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صدارتی مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر نجيب نقی اور پیپلز پارٹی کے چوہدری لطیف اکبر کے درمیان تھا۔ دستیاب نتائج کے مطابق ایک رکن کی عدم موجودگی بھی رپورٹ ہوئی، تاہم نتیجے میں ڈاکٹر نقی کو واضح عددی برتری حاصل رہی۔

ڈاکٹر نجيب نقی کا تعلق آزاد کشمیر کی سیاست سے طویل عرصے سے ہے۔ وہ 1990 کی دہائی میں عملی سیاست میں آئے اور 1991 میں قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ماضی میں وہ صحت، منصوبہ بندی اور ترقی سے متعلق حکومتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ ان کے انتخاب کے بعد آزاد کشمیر کے آئینی سربراہ کا عہدہ باقاعدہ طور پر پُر ہو گیا ہے۔

صدارتی منصب آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے میں ریاستی سربراہ کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ روزمرہ حکومتی انتظام بنیادی طور پر منتخب حکومت اور وزیر اعظم کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ نئے صدر کے انتخاب سے جنوری میں پیدا ہونے والی مستقل صدارتی آسامی ختم ہو گئی ہے اور اسمبلی کے ذریعے طے شدہ آئینی انتخابی عمل مکمل ہو گیا ہے۔