مظفرآباد: مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ڈاکٹر نجیب نقی آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہو گئے ہیں اور انہوں نے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق جمعرات کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر نجیب نقی نے 32 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کو 13 ووٹ ملے۔ ایک رکن اسمبلی ووٹنگ میں شریک نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نجیب نقی کو مسلم لیگ (ن) کے 31 ارکان کے علاوہ جموں کشمیر عوامی دست و بازو کے ایک رکن کا ووٹ بھی ملا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت ہے اور حالیہ انتخابی عمل کے بعد مخصوص نشستوں سمیت اس کی عددی قوت 31 ارکان تک پہنچی، جبکہ پیپلز پارٹی کے 14 ارکان ہیں۔

ڈاکٹر نجیب نقی پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ صدارتی عہدہ رواں سال جنوری میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا۔ اس کے بعد آئینی طریقہ کار کے تحت عبوری انتظام جاری رہا، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق 24 ستمبر کو قانون ساز اسمبلی میں ووٹنگ کرائی گئی۔

نئے صدر ماضی میں آزاد کشمیر کے وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے 2006 سے 2011 تک اور پھر مسلم لیگ (ن) کی 2016 سے 2021 کی حکومت میں صحت کا قلمدان سنبھالا۔ ان کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب آزاد کشمیر میں حالیہ عام انتخابات کے بعد نئی سیاسی ترتیب تشکیل پائی ہے۔

اگست کے آخر میں مسلم لیگ (ن) کے افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں 30 ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان کو 14 ووٹ ملے تھے۔ صدارتی انتخاب اسی نئی اسمبلی کی سیاسی عددی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے، تاہم صدر کا عہدہ آئینی نوعیت کا ہے اور اس کے اختیارات و ذمہ داریاں آزاد کشمیر کے آئینی فریم ورک کے تحت متعین ہوتی ہیں۔

جمعرات کی ووٹنگ کے بعد انتخابی نتیجہ سامنے آنے پر ڈاکٹر نجیب نقی کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی۔ اس طرح جنوری سے خالی مستقل صدارتی منصب پر باقاعدہ انتخابی عمل مکمل ہو گیا۔ رپورٹ میں درج ووٹوں کے اعداد اور جماعتی وابستگی جیو نیوز کی انتخابی کوریج پر مبنی ہیں۔