وفاقی حکومت نے نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان کو ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل معاشرے کے تین بنیادی ستونوں پر آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد خان چیمہ نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ اس ماسٹر پلان کو وزیراعظم کے ساتھ صوبائی وزرائے اعلیٰ کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

اجلاس میں وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سہیل منیر اور متعلقہ محکموں کے حکام شریک ہوئے۔ سرکاری بیان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تبدیلی محض انتظامی عمل تک محدود نہ رہے بلکہ سرکاری کارکردگی، عوامی خدمات اور مختلف معاشی شعبوں میں قابلِ پیمائش نتائج دے۔

احد چیمہ نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے کہا کہ شعبہ وار منصوبوں میں عملی نتائج اور حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز واضح کی جائیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ای آفس کے نفاذ کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے پاس دستیاب افرادی قوت کے ایک حصے کو تربیت دے کر حکومتی ڈیجیٹلائزیشن کے کام میں لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے اس مقصد کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر تربیت پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

سرکاری بیان میں وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے آغاز، PMOS نظام اور دیگر منصوبوں میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی آئی ٹی محکموں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان پر ہونے والی مشاورت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق مقصد صوبائی دائرہ اختیار کا احترام کرتے ہوئے ایک قومی ڈیجیٹل فریم ورک پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

حکومت کے مطابق مختلف شعبوں میں ڈیٹا اور رجسٹریوں کے بہتر رابطے سے اداروں کو زیادہ قابلِ اعتماد اور تصدیق شدہ معلومات تک رسائی مل سکتی ہے، جس سے عوامی خدمات کی منصوبہ بندی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ تاہم ماسٹر پلان کے مکمل نفاذ کی حتمی تاریخ، مجموعی لاگت اور ہر شعبے کے تفصیلی اہداف اس بیان میں جاری نہیں کیے گئے۔ آئندہ بین الصوبائی مشاورت اور متعلقہ اداروں کے عملی منصوبے اس پروگرام کے نفاذ کی رفتار اور دائرہ کار واضح کریں گے۔