اسلام آباد: نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ نے 100 ارب روپے تک کے سکوک جاری کرنے کی منصوبہ بندی پیش کی ہے، جس کے تحت ابتدائی شریعہ موافق بانڈ کا حجم 20 ارب روپے اور مدت 10 سال تجویز کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کیپیٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے چوتھے اجلاس میں زیر بحث آیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ سکوک مختلف اقساط میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے عوامی پیشکش کی صورت میں جاری کیے جانے کا تصور ہے۔ تاہم اجرا ضروری ریگولیٹری منظوریوں، دستاویزی تقاضوں اور مارکیٹ حالات سے مشروط ہوگا۔ اس لیے 100 ارب روپے کو فوری طور پر جمع شدہ سرمایہ یا مکمل شدہ بانڈ اجرا نہیں سمجھا جا سکتا۔
کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ کو گہرا کرنے، مزید اداروں اور سرمایہ کاروں کو شامل کرنے، مارکیٹ انفراسٹرکچر بہتر بنانے اور کاروباری اداروں کے لیے طویل مدتی فنانسنگ تک رسائی آسان بنانے پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے نیشنل گرڈ کمپنی کے مجوزہ اجرا کو لسٹڈ کارپوریٹ قرض کے امکانات دکھانے اور دیگر اداروں کو اسی راستے پر آنے کی ترغیب دینے کا موقع قرار دیا۔
اجلاس میں پیش کردہ اعداد کے مطابق جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران کارپوریٹ ڈیٹ اجرا کا حجم 291 ارب روپے رہا، جبکہ 2025 میں 326 ارب روپے کے اجرا ہوئے تھے۔ فروری 2025 سے ستمبر 2026 کے درمیان 12 نئے لسٹڈ کارپوریٹ ڈیٹ اجرا، جن کی مجموعی مالیت 45.4 ارب روپے بتائی گئی، بھی مارکیٹ سرگرمی میں اضافے کی مثال کے طور پر پیش کیے گئے۔
سکوک روایتی سودی بانڈ کے بجائے شریعہ اصولوں کے مطابق ساختہ مالیاتی آلہ ہوتا ہے اور پاکستان میں حکومت اور کارپوریٹ ادارے دونوں اسے سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نیشنل گرڈ کمپنی کا مجوزہ بڑا اجرا بجلی کے بنیادی ڈھانچے سے وابستہ ادارے کے لیے طویل مدتی مقامی فنانسنگ کا راستہ فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس کی حتمی لاگت، منافع کی شرح، اثاثہ جاتی ساخت اور اجرا کی تاریخ منظوری اور مارکیٹ عمل مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

