اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وہ ریاض میں قائم کیے جانے والے اتحاد کے جنرل سیکرٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔

ڈان اور جیو نیوز کے مطابق دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ تقرری مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کی گئی ہے۔ تینوں ممالک نے یہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو کیا تھا، جس کے تحت کسی رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔ اتحاد کی تنظیمی ساخت کے لیے 31 اگست کو استنبول میں ایک افتتاحی اجلاس بھی ہوا تھا، جہاں سیکرٹریٹ کے قیام اور اس کی قیادت سے متعلق ابتدائی انتظامات پر اتفاق کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اتحاد کا جنرل سیکرٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جائے گا اور ابتدائی طور پر اس کی قیادت پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل کے پاس ہوگی۔ ڈان نے رپورٹ کیا کہ یہ مدت تین سال کے لیے طے کی گئی ہے۔ نعمان محمود کی تقرری اسی فریم ورک کے تحت پہلی باضابطہ سربراہی تقرری ہے۔

پاکستانی حکام اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا بندوبست قرار دیتے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدہ طے پانے کے بعد کہا تھا کہ اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور بازدار صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ دفتر خارجہ نے رواں ماہ یہ بھی کہا تھا کہ فوری طور پر اتحاد کی توسیع زیر غور نہیں اور پہلے موجودہ ڈھانچے کو مؤثر بنانا ترجیح ہے۔

اس تقرری کے ذریعے اب اتحاد کے مستقل انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا اگلا مرحلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم سیکرٹریٹ کے مکمل تنظیمی خاکے، ذیلی عہدوں اور عملی ذمہ داریوں کی مزید تفصیلات متعلقہ رکن ممالک کی جانب سے بعد میں سامنے آ سکتی ہیں۔ خبر میں اتحاد کے کردار اور دائرۂ کار سے متعلق وہی نکات شامل کیے گئے ہیں جن کی تصدیق دفتر خارجہ کے اعلان اور معتبر پاکستانی ذرائع کی رپورٹنگ سے ہوئی ہے۔