ضلع اوکاڑہ کے قصبے حویلی لکھا سے تعلق رکھنے والی نازیہ نذیر کا کرکٹ سفر اس بات کی مثال ہے کہ کھیل میں پیشہ ورانہ راستہ صرف کھلاڑی بننے تک محدود نہیں رہتا۔ دی نیشن کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پہلے کرکٹر کی حیثیت سے میدان میں قدم رکھا، بعد میں امپائرنگ کو باقاعدہ پیشہ بنایا اور پاکستان، جنوبی افریقہ انڈر 19 سیریز میں بین الاقوامی سطح پر ذمہ داری حاصل کی۔ ان کا سفر چھوٹے شہر کی محدود سہولتوں سے نکل کر کھیل کے فیصلہ ساز کردار تک پہنچنے کی کہانی ہے۔

نازیہ نذیر 2011 میں فزیکل ایجوکیشن میں ماسٹرز کرنے کے لیے لاہور آئیں۔ تعلیم کے ساتھ انہوں نے کرکٹ کھیلنا جاری رکھا اور 2014 تک مقامی و مسابقتی سطح پر کھیل سے وابستہ رہیں۔ ماسٹرز مکمل ہونے کے بعد لاہور سے واپسی پر ان کا کھیلنے کا مرحلہ ختم ہوا، مگر انہوں نے کرکٹ سے تعلق منقطع نہیں کیا۔ اسی موقع پر انہوں نے امپائرنگ کا راستہ اختیار کیا، جو قوانین کی گہری سمجھ، مسلسل توجہ، درست فیصلہ سازی اور دباؤ میں متوازن رویے کا تقاضا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نازیہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا امپائرنگ امتحان پاس کیا اور مقامی ایک روزہ و ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے تجربہ حاصل کیا۔ کسی سابق کھلاڑی کے لیے کھیل کی رفتار، گیند کی حرکت اور فیلڈ کی صورت حال سمجھنا مفید ہو سکتا ہے، لیکن امپائرنگ میں ترقی کا انحصار صرف کھیلنے کے تجربے پر نہیں ہوتا۔ قواعد کی تازہ معلومات، جسمانی تیاری، غیر جانب داری اور ہر فیصلے کی واضح بنیاد بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔

ان کے کیریئر میں نمایاں موڑ پاکستان اور جنوبی افریقہ کی انڈر 19 ٹیموں کی سیریز کے دوران آیا۔ نازیہ نذیر کو ایک میچ میں آن فیلڈ امپائر مقرر کیا گیا، جبکہ دو دوسرے میچوں میں انہوں نے ریزرو امپائر کی ذمہ داری سنبھالی۔ بین الاقوامی مقابلے میں یہ تقرری انہیں اس سطح کے انتظامی و تکنیکی تقاضوں سے براہِ راست روشناس کراتی ہے اور ملک میں خواتین امپائرز کے لیے دستیاب پیشہ ورانہ راستے کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔

اس کامیابی کا وسیع پہلو پاکستان کے کرکٹ نظام سے متعلق ہے۔ کھیل کو صرف بیٹرز اور بولرز نہیں چلاتے؛ امپائرز، میچ ریفریز، اسکوررز، کوچز، تجزیہ کار، فزیوتھراپسٹس اور منتظمین بھی اس ڈھانچے کا لازمی حصہ ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں نوجوان خواتین کو ان کرداروں کے بارے میں معلومات، تربیت اور امتحانات تک رسائی ملے تو کرکٹ میں ان کی شمولیت کے امکانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔ نازیہ کا راستہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ کھیلنے کا مرحلہ ختم ہونا پورے کھیل سے رخصتی نہیں ہوتا۔

حویلی لکھا سے لاہور، ڈومیسٹک امپائرنگ اور پھر بین الاقوامی انڈر 19 سیریز تک پہنچنے میں تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت دونوں کا کردار نمایاں رہا۔ ان کی کہانی کو کسی ایک میچ کی کامیابی کے بجائے مسلسل سیکھنے، کردار بدلنے اور موجود مواقع کو استعمال کرنے کے عمل کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔ خبر کے بنیادی حقائق دی نیشن کی 22 اگست 2026 کی تفصیلی رپورٹ سے براہِ راست جانچے گئے ہیں؛ اس رپورٹ میں ان کے پی سی بی امتحان، ڈومیسٹک میچوں اور بین الاقوامی سیریز کی ذمہ داریوں کی تفصیل موجود ہے۔