نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی مبینہ تیاری اور فروخت میں ملوث ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد محمد شعیب خان کے مطابق ایک ملزم پر الزام ہے کہ وہ اپنے کمسن بچوں کی قابل اعتراض ویڈیوز بنا کر خفیہ آن لائن گروپس میں فروخت کرتا تھا۔ معاملہ زیرِ تفتیش ہے اور الزامات کا حتمی تعین عدالت میں قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔
این سی سی آئی اے افسر کے مطابق مواد کی خرید و فروخت خفیہ ٹیلیگرام گروپس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی جاتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹ ورک کے مبینہ سرغنہ کا تعلق اسکردو سے ہے اور اسے بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے روابط اور شواہد ملنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ دیگر مبینہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
پریس کانفرنس میں ایک دوسرے کیس کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں جس میں ایجنسی کے مطابق بچوں سے متعلق تقریباً 60 ویڈیوز کی تحقیقات کے بعد چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک ملزم چھ سے 14 سال عمر کے بچوں سے سوشل میڈیا پر رابطہ کرتا، انہیں رقم کا لالچ دیتا اور پھر قابل اعتراض مواد تیار کر کے بیرون ملک واٹس ایپ گروپس میں فروخت کرتا تھا۔ یہ تمام دعوے تحقیقاتی ادارے کے بیان پر مبنی ہیں اور متعلقہ مقدمات میں عدالتی فیصلے ابھی باقی ہیں۔
این سی سی آئی اے نے کراچی کی ایک کمسن لڑکی کو مبینہ طور پر طویل عرصے تک ہراساں اور بلیک میل کرنے کے ایک الگ معاملے کا بھی ذکر کیا۔ حکام کے مطابق مرکزی مشتبہ شخص کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا اور متاثرہ لڑکی زیر علاج ہے۔ ایجنسی نے خواتین اور بچوں کو آن لائن ہراسانی سے بچانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام نے شہریوں کو ذاتی معلومات، بینک تفصیلات اور ون ٹائم پاس ورڈ کسی نامعلوم فرد کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔ بچوں سے متعلق اس نوعیت کے مقدمات میں متاثرین کی شناخت اور نجی معلومات کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے رپورٹ میں کسی بچے کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

