پشاور: قومی احتساب بیورو نے خیبرپختونخوا کے سابق حکومتی عہدیداروں سے متعلق اثاثوں اور بعض ترقیاتی منصوبوں کے ریکارڈ کی جانچ شروع کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیورو نے ایک سابق وزیراعلیٰ اور دو سابق وزرا سے منسوب اثاثوں کا ریکارڈ حاصل کیا ہے جبکہ مختلف سرکاری محکموں کو بھی معلومات کی تصدیق کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

یہ کارروائی اس مرحلے پر ریکارڈ کی جانچ اور معلومات کی تصدیق تک محدود ہے۔ نیب نے ابھی کسی شخص کے خلاف بدعنوانی کا حتمی نتیجہ، سزا یا عدالتی طور پر ثابت شدہ ذمہ داری کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے زیرِ جائزہ اثاثوں یا منصوبوں کا ذکر الزام یا تحقیقات کے تناظر میں ہی کیا جانا چاہیے۔ ادارے کی آئندہ کارروائی دستیاب دستاویزات اور متعلقہ محکموں سے موصول ہونے والی معلومات کے جائزے کے بعد طے ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق نیب نے سرکاری اداروں سے عہدیداروں کے اثاثوں، جائیدادوں اور متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق مانگی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی دستاویزی مواد دیکھا جارہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ منصوبوں کی منظوری، فنڈنگ، عملدرآمد اور اخراجات کے مراحل قواعد کے مطابق تھے یا نہیں۔ تاہم اس مرحلے پر کسی بے ضابطگی کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے لیے حتمی تحقیقاتی یا عدالتی نتیجہ موجود نہیں۔

احتسابی تحقیقات میں ابتدائی جانچ کے بعد کئی ممکنہ راستے ہوسکتے ہیں۔ اگر ریکارڈ میں مزید چھان بین کی ضرورت سامنے آئے تو ادارہ باقاعدہ انکوائری یا تحقیقات آگے بڑھا سکتا ہے، جبکہ ناکافی شواہد کی صورت میں معاملہ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ بھی ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے ابتدائی ریکارڈ طلب کیے جانے کو فردِ جرم یا جرم کے ثبوت کے مترادف نہیں سمجھا جاتا۔

خیبرپختونخوا میں سابق حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات اور سرکاری منصوبوں پر سیاسی بحث پہلے بھی ہوتی رہی ہے، مگر نیب کی موجودہ جانچ کا قانونی وزن اس کے دستاویزی نتائج اور بعد کے باضابطہ اقدامات سے متعین ہوگا۔ متعلقہ سابق عہدیداروں کا مؤقف بھی کسی حتمی نتیجے سے پہلے اہم ہوگا۔ دستیاب رپورٹ میں نیب کی جانب سے ریکارڈ حاصل کرنے اور محکموں سے تصدیق مانگنے کی تفصیل سامنے آئی ہے، جبکہ ادارے نے واضح کیا ہے کہ اگلے اقدامات کا فیصلہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔