پشاور: خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے چار نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور صحت حکام کے مطابق ان مریضوں میں سے کسی کی بیرون ملک سفر کی تاریخ موجود نہیں، جس کے باعث مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کے امکان پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ ڈان کے مطابق نئے مریضوں میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں، جن کے نمونے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری میں مثبت آئے۔
حکام نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو گھروں میں تنہائی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دو مریض نوشہرہ جبکہ ایک ایک مریض پشاور اور مردان سے تعلق رکھتا ہے۔ محکمہ صحت نے قریبی رشتہ داروں اور رابطے میں آنے والے افراد کی کانٹیکٹ ٹریسنگ اور ٹیسٹنگ کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ ممکنہ مقامی پھیلاؤ کی حد کا تعین کیا جا سکے۔
محکمہ صحت کے انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم کی رپورٹ کے مطابق نئے کیسز کے بعد رواں سال صوبے میں ایم پاکس کے مریضوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ ان میں ایک مریض کی موت رپورٹ ہوئی جبکہ 13 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ طبی ماہرین نے اس حقیقت کو اہم قرار دیا ہے کہ تازہ مریضوں کی کوئی غیر ملکی سفری تاریخ نہیں، کیونکہ اس سے کمیونٹی ٹرانسمیشن کے امکان کی جانچ ضروری ہو جاتی ہے۔ تاہم صرف سفری تاریخ نہ ہونا بذات خود مقامی منتقلی کی حتمی تصدیق نہیں ہے؛ اس کے لیے وبائیاتی تحقیق اور رابطوں کی جانچ درکار ہوگی۔
صحت حکام نے متاثرہ اضلاع کے اسپتالوں کو مشتبہ مریضوں کے نمونے جمع کرنے اور بروقت لیبارٹری تشخیص کے ذریعے نگرانی سخت رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔ ڈاکٹروں نے انفیکشن کنٹرول، متاثرہ افراد سے براہ راست رابطے سے گریز اور آلودہ مواد سے احتیاط پر زور دیا ہے۔ ایم پاکس جسمانی رطوبتوں، جلد یا مخاطی زخموں کے براہ راست رابطے اور آلودہ اشیا کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صوبے میں پہلے رپورٹ ہونے والے بہت سے کیسز بیرون ملک سفر سے منسلک تھے۔ موجودہ چار کیسز اس رجحان سے مختلف ہیں، اس لیے ان کے انفیکشن کے ذرائع کا تعین اہم ہوگا۔ حکام کا اگلا مرحلہ رابطوں کی شناخت، ٹیسٹنگ اور متاثرہ علاقوں میں نگرانی بڑھانا ہے تاکہ کسی ممکنہ مقامی سلسلۂ انتقال کو جلد روکا جا سکے۔

