اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے مبینہ طور پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے، جبکہ سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کی جانب سے پاکستان پر افغان جنگجوؤں کو مسلح یا بھرتی کرنے سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر مسلح گروہوں کے عناصر افغانستان میں پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستان کی داخلی بدامنی کا ذمہ دار نہیں اور اسلام آباد اپنے اندرونی سلامتی کے مسائل کا الزام دوسروں پر ڈال رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے بیانات میں بنیادی اختلاف یہ ہے کہ سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کہاں سے ہوتی ہے اور انہیں روکنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

پاکستانی وزارت اطلاعات نے خلیل زاد کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے افغان شہریوں کو ہتھیار دے رہا ہے یا پاکستان مخالف شورش پسندوں کے خلاف افغان جنگجو بھرتی کر رہا ہے۔ وزارت نے سرحد پار دراندازی، کارروائیوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں اور غیر ملکی ساختہ ہتھیاروں کی برآمدگی کو ایسے شواہد قرار دیا جن کی تحقیقات ہونی چاہییں۔ یہ نکات پاکستانی حکومت کے دعوے ہیں اور ہر واقعے کی آزادانہ تصدیق الگ طور پر ضروری ہے۔

رپورٹ میں امریکی اندازے کا حوالہ دیا گیا جس کے مطابق 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً چار سے چھ ہزار کے درمیان سمجھی گئی۔ پاکستان افغان سرحد کے قریب متعدد انسداد دہشت گردی کارروائیاں کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ ان کا ہدف عسکریت پسند ہیں، افغان شہری نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے باعث سرحدی سلامتی، تجارت اور سفارتی رابطے بھی متاثر ہوئے ہیں، اور دونوں جانب سے الزامات کے تبادلے نے اعتماد سازی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔